پاکستان اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک ہی دن میں 120 سے زائد پروازیں منسوخ ہونے کا معاملہ اب محض وقتی خلل نہیں رہا، بلکہ یہ ہوا بازی کے شعبے میں گہرے دباؤ کی علامت بن چکا ہے۔ ابتدا میں اسے ایک عارضی بحران سمجھا گیا تھا، مگر اب صورتِ حال کچھ زیادہ پیچیدہ دکھائی دیتی ہے: ایک طرف علاقائی بے یقینی، دوسری طرف جیٹ فیول کی بلند قیمتیں، کمزور سفری طلب، اور خلیجی روٹس پر سخت ہوتی سفری شرائط۔
ایئرلائنز کے لیے اصل مسئلہ بالکل واضح ہے۔ کئی روٹس پر کرایوں میں کمی کی گئی، لیکن اس کے باوجود مسافروں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ بعض داخلی روٹس پر آنے جانے کے کرائے نمایاں طور پر کم کیے گئے، مگر کم بکنگ کے باعث کئی پروازیں چلانا مالی طور پر نقصان دہ ثابت ہونے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ایئرلائنز نے کم مسافروں والی پروازیں منسوخ کرنا شروع کر دیں۔
یہ کمزور طلب خاص طور پر پاکستان سے خلیجی ممالک جانے والے روٹس پر زیادہ نمایاں ہے، جو ماضی میں سب سے مصروف فضائی راستوں میں شمار ہوتے تھے۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد اور پشاور جیسے بڑے ہوائی اڈے اس دباؤ سے متاثر ہوئے، جبکہ دبئی، ابوظبی، شارجہ، بحرین، کویت اور فجیرہ جانے والی پروازوں میں نشستوں کی کم بھرائی ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئی۔
دوسری جانب ایئرلائنز کے اخراجات بھی تیزی سے بڑھے ہیں۔ جیٹ فیول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، اور یہی اضافہ آپریٹنگ لاگت کو بہت اوپر لے گیا ہے۔ ہوا بازی کے شعبے میں ایندھن پہلے ہی مجموعی اخراجات کا بڑا حصہ ہوتا ہے، اس لیے جب فیول مہنگا ہو جائے تو ایئرلائنز کے لیے پروازیں معمول کے مطابق برقرار رکھنا آسان نہیں رہتا، خاص طور پر تب جب مسافر کم ہوں۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز، جو اس وقت تنظیمِ نو کے مرحلے سے گزر رہی ہے، اس دباؤ کے جواب میں بعض بین الاقوامی روٹس معطل کر چکی ہے، کچھ روٹس پر پروازوں کی تعداد کم کی گئی ہے، جبکہ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک ٹکٹوں پر اضافی فیول سرچارج بھی عائد کیا گیا ہے۔ بیجنگ اور کوالالمپور جیسے روٹس کی معطلی اور خلیجی نیٹ ورک میں کمی اسی وسیع دباؤ کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔
مارکیٹ میں اس وقت ایک عجیب تضاد موجود ہے۔ ایئرلائنز کو اپنے طیارے بھرنے کے لیے سستے کرایوں کی ضرورت ہے، مگر بہت سے مسافر سفر سے گریز کر رہے ہیں۔ پاکستان میں مہنگائی اور کمزور ہوتی قوتِ خرید نے لوگوں کی سفری صلاحیت متاثر کی ہے، جبکہ خلیجی خطے کی غیر یقینی صورتِ حال اور بعض مقامات، خاص طور پر متحدہ عرب امارات، کے لیے سخت ویزا شرائط نے بھی بیرونِ ملک سفر کی طلب کو کمزور کیا ہے۔ یوں صرف کرایہ کم کر دینا کافی ثابت نہیں ہو رہا۔
یہی وجہ ہے کہ پروازوں کی منسوخی کا سلسلہ رک نہیں رہا۔ جو بحران ابتدا میں محض وقتی آپریشنل مسئلہ لگ رہا تھا، وہ اب ایک واضح تجارتی اور مالی چیلنج بن چکا ہے۔ جب تک ایندھن کی قیمتوں میں استحکام نہیں آتا، روٹس پر اعتماد بحال نہیں ہوتا، اور مسافروں کی طلب میں بہتری نہیں آتی، تب تک ایئرلائنز کم منافع یا زیادہ نقصان والے روٹس پر کٹوتی جاری رکھ سکتی ہیں۔
