پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے مہنگائی کی رفتار کو مزید تیز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 1.93 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ مجموعی سالانہ شرح بڑھ کر 12.15 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں مہنگائی کا دباؤ واضح طور پر برقرار رہا اور عوام کو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑا۔
اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے میں 28 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 8 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 15 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ توانائی کے شعبے میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں ڈیزل کی قیمت میں 54.71 فیصد اور پٹرول کی قیمت میں 17.86 فیصد اضافہ ہوا، جس کے اثرات براہ راست ٹرانسپورٹ اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر پڑے۔
اشیائے خورونوش میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں ٹماٹر 9.35 فیصد، ایل پی جی 8.61 فیصد اور آلو 4.13 فیصد مہنگے ہوئے۔ اسی طرح انڈے 3.77 فیصد، بریڈ 0.47 فیصد مہنگی ہوئی جبکہ بیف 1.07 فیصد اور مٹن 1.05 فیصد اضافے کے ساتھ فروخت ہوئے۔
دوسری جانب کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھنے میں آئی، جن میں لہسن 3.78 فیصد اور کیلے 3.39 فیصد سستے ہوئے، جبکہ چکن 1.05 فیصد، آٹا 0.73 فیصد اور گھی و خوردنی تیل کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے، کیونکہ اس کے اثرات ٹرانسپورٹ، پیداوار اور ترسیل کے اخراجات کو بڑھاتے ہیں، جس سے مجموعی طور پر قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور عوام پر معاشی دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے
