MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
Health

پاکستان میں غیر محفوظ انتقالِ خون سے ایچ آئی وی پھیلنے کا انکشاف

Last updated: دسمبر 28, 2025 10:23 صبح
Neha Ashraf
Share
SHARE

طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ ملک بھر میں ایچ آئی وی کے 15 فیصد مریض غیر محفوظ انتقالِ خون کے باعث اس وائرس کا شکار ہوئے جبکہ سفلس، ملیریا اور ڈینگی بھی خون کے ذریعے پھیل سکتے ہیں جس کے پیشِ نظر نیشنل بلڈ ٹرانسفیوژن پالیسی متعارف کروائی گئی ہے۔

‎نیشنل بلڈ ٹرانسفیوژن پالیسی کے تحت محفوظ انتقال خون کو یقینی بنانے کے لیے سی ایل آئی اے اور نیوکلک ایسڈ ٹیسٹنگ کو لازمی قرار دیا گیا ہے، ڈاکٹرز کے مطابق اس نظام کو مؤثر بنانے میں سب سے بڑا چیلنج رضاکارانہ خون عطیہ کرنے کے رجحان کی کمی ہے۔

‎اس حوالے سے آغا خان یونیورسٹی اسپتال (اے کے یو ایچ) کے سیکشن آف ہیماٹولوجی اینڈ ٹرانسفیوژن میڈیسن کی سربراہ اور پاکستان سوسائٹی آف ہیماٹولوجی کی صدر پروفیسر ڈاکٹر بشریٰ معیز نے  بتایا کہ پاکستان کا بلڈ بینک سسٹم طویل عرصے تک فریگمینٹڈ رہا کیونکہ ملک میں مختلف معیار کے بلڈ بینکس کام کر رہے تھے۔ کچھ بلڈ بینکس بین الاقوامی معیار پر پورا اترتے تھے جبکہ کئی نچلی سطح پر کام کر رہے تھے۔ ماضی میں اگرچہ پالیسی موجود تھی اور اس میں کم از کم معیارات بھی طے کیے گئے تھے، تاہم اٹھارویں ترمیم کے بعد ہر صوبے میں بلڈ بینکنگ کے لیے علیحدہ ریگولیٹری اتھارٹیز قائم ہوئیں۔

‎ڈاکٹر بشریٰ معیز کے مطابق سندھ میں سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی (SBTA) کا قیام عمل میں آیا، جس کا بنیادی مقصد بلڈ بینکنگ میں فریگمینٹیشن کا خاتمہ اور ریجنل بلڈ سینٹرز کا قیام تھا، یہ ماڈل بڑی حد تک کامیاب رہا اور ملک بھر میں 18 ریجنل بلڈ سینٹرز قائم کیے گئے۔ ان کے قیام کے نتیجے میں آئی ٹی ٹیکنالوجی، اسکریننگ کے نظام اور دیگر معیار میں نمایاں بہتری آئی۔ یہ ریجنل بلڈ سینٹرز اسپتالوں سے منسلک تھے اور مریضوں کو مفت اور محفوظ خون فراہم کر رہے تھے۔ یہ اصلاحاتی دور 2014 سے 2020 تک جاری رہا۔

‎انہوں نے مزید بتایا کہ اب 2030 تک کے لیے قومی بلڈ ٹرانسفیوژن پالیسی تیار کی گئی ہے جس میں مجموعی طور پر 15 اہداف شامل ہیں۔ اگر ان اہداف کو سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے تو ان کے تین بنیادی ستون ہیں جس میں گورننس اور اسٹراکچر، مریضوں کی حفاظت اور نظام کی پائیداری (سسٹینیبلٹی) شامل ہے، نئی پالیسی کے تحت بلڈ اور بلڈ پروڈکٹس، جن میں پلازما سے تیار کی جانے والی مصنوعات شامل ہیں، کو اب ڈرگ کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بلڈ بینکس کو اب ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ شراکت داری میں ریگولیٹ کیا جائے گا۔

‎انہوں نے وضاحت کی کہ پلازما سے حاصل ہونے والی مصنوعات میں البومن، کلاٹنگ فیکٹرز، امیونوگلوبلنز، اینٹی ٹیٹنس اور اینٹی ریبیز امیونوگلوبلن شامل ہیں۔ ان کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے معیارات کے تحت بھی بلڈ اور بلڈ پروڈکٹس کو ڈرگ کے طور پر ہی ریگولیٹ کیا جاتا ہے اور پاکستان کی نئی پالیسی بھی انہی عالمی اصولوں سے ہم آہنگ ہے، مریضوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے نئی قومی پالیسی میں پہلی بار بلڈ اسکریننگ کے طریقہ کار کو واضح اور معیاری بنایا گیا ہے۔

‎ڈاکٹر بشریٰ معیز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس وقت بلڈ اسکریننگ کے دوران پانچ بیماریوں کی جانچ کی جاتی ہے جن میں ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی، سفلس اور ملیریا شامل ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ملک بھر میں اسکریننگ کے لیے اسٹینڈرڈائزڈ انٹرنیشنل لیول کی میتھاڈولوجی اپنائی جائے، جسے سی ایل آئی اے (CLIA) کہا جاتا ہے۔

‎انہوں نے کہا کہ ماضی میں زیادہ تر بلڈ بینکس کِٹ بیسڈ یا ریپڈ ٹیسٹنگ پر انحصار کرتے تھے جس کے نتیجے میں بعض اوقات ہیپاٹائٹس بی اور سی جیسے وائرس تشخیص سے رہ جاتے تھے اور آگے پھیلنے کا خطرہ موجود رہتا تھا۔ نئی پالیسی کے تحت تمام بلڈ بینکس کو سی ایل آئی اے بیسڈ ٹیسٹنگ کا پابند بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ نیوکلک ایسڈ ٹیسٹنگ کو بھی شامل کیا گیا ہے، جو پی سی آر بیسڈ طریقہ ہے۔

‎انہوں نے کہا کہ بعض اوقات وائرس اتنی کم مقدار میں موجود ہوتا ہے کہ سیرولوجی ٹیسٹس میں ظاہر نہیں ہوتا مگر وہ انتقالِ خون کے ذریعے انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے، ایسے کیسز کی نشاندہی نیوکلک ایسڈ ٹیسٹنگ سے ممکن ہوگی۔ اس پالیسی کے ذریعے مریض سے لے کر ڈونر تک مکمل ٹریسنگ ممکن ہو سکے گی۔ یہ معلوم کیا جا سکے گا کہ کس ڈونر نے کب اور کہاں خون عطیہ کیا، وہ خون کس بلڈ بینک کے ذریعے کس اسپتال اور کس مریض کو منتقل ہوا۔ اگر کسی مریض میں بعد ازاں وائرس منتقل ہونے کی تصدیق ہو جائے تو انٹرنیشنل سوسائٹی آف بلڈ ٹرانسفیوژن کے ٹریکنگ سسٹم کے ذریعے اس ڈونر کو دنیا کے کسی بھی حصے میں ٹریس کیا جا سکے گا۔

‎انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ اگر کسی ڈونر سے ہیپاٹائٹس یا کوئی اور انفیکشن منتقل ہوا ہو تو مستقبل میں وہ مزید کسی کو خون عطیہ نہ کر سکے۔ اس طرح بلڈ بینکس کے پاس واضح ڈیٹا ہوگا کہ کون سا ڈونر ہیپاٹائٹس سی یا دیگر بیماریوں کا کیریئر ہے اور اس سے خون نہیں لیا جانا چاہیے۔

‎انہوں نے کہا کہ 2022 میں ریجنل بلڈ سینٹرز کے ڈیٹا کے مطابق شمالی پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے کیسز زیادہ پائے گئے، جبکہ اندرونِ سندھ میں ہیپاٹائٹس سی کی شرح 8 سے 9 فیصد تک رپورٹ ہوئی۔ کراچی میں ہیپاٹائٹس بی کی شرح تقریباً 5 فیصد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ کے علاقوں میں ہیپاٹائٹس سی کے کیسز زیادہ ہیں، جبکہ پشاور اور اسلام آباد میں بھی ہیپاٹائٹس بی کے کیسز سامنے آ رہے ہیں، سندھ ہیپاٹائٹس سی کا ہاٹ اسپاٹ بنتا جا رہا ہے۔

‎انہوں نے کہا کہ اس پالیسی میں پہلی بار تھیلیسیمیا کے بچوں پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ چونکہ تھیلیسیمیا کا علاج مہنگا ہے، اس لیے پالیسی میں علاج کے بجائے بچاؤ اور روک تھام پر زور دیا گیا ہے۔

‎انفیکشن ڈیزیز کے ماہر پروفیسر سید فیصل محمود کا کہنا ہے کہ خون کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریوں میں ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی اور سی شامل ہیں، جبکہ اس کے علاوہ سفلس، ملیریا اور ڈینگی بھی خون کے ذریعے پھیل سکتے ہیں۔ ہیپاٹائٹس سی کا علاج ممکن ہے تاہم ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس بی کا مکمل علاج تاحال دستیاب نہیں، یہ وائرس طویل عرصے تک یا زندگی بھر انسان کے جسم میں موجود رہ سکتے ہیں۔

‎پروفیسر فیصل محمود کے مطابق اگر خون انفیکٹڈ ہو تو اس کے ذریعے بیماری سو فیصد دوسرے فرد میں منتقل ہو سکتی ہے، اسی لیے بلڈ ٹرانسفیوژن سے قبل اسکریننگ اور ٹیسٹنگ نہایت ضروری ہے۔

‎انہوں نے بتایا کہ غیر محفوظ انتقال خون وہ ہے جو معیاری اسکریننگ اور حفاظتی طریقہ کار کے بغیر مریضوں کو لگایا جائے، جس سے خون کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ آغا خان یونیورسٹی اسپتال (اے کے یو ایچ) میں کیے گئے سروے میں ملک بھر کے 15 فیصد ایچ آئی وی مریضوں نے انکشاف کیا کہ انہیں غیر محفوظ انتقالِ خون کے باعث ایچ آئی وی منتقل ہوا۔  اُن کے بقول 15 فیصد بظاہر ایک چھوٹا عدد لگتا ہے، لیکن جدید دور میں یہ شرح صفر ہونی چاہیے۔ اگر ایک فرد کو بھی غیر محفوظ بلڈ ٹرانسفیوژن سے ایچ آئی وی ہو جائے تو یہ ہمارے معاشرے کے لیے باعثِ شرمندگی ہے۔

‎انہوں نے کہا کہ بچوں میں بلڈ بورن انفیکشنز کی منتقلی صرف خون کی منتقلی تک محدود نہیں بلکہ استعمال شدہ سرنجوں اور جراحی آلات کے ذریعے بھی یہ بیماریاں پھیلتی ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ پاؤڈر کی شکل میں موجود انجیکشن کے لیے سرنج کا پانی ایک ہی بڑی بوتل یا تھیلی سے بار بار نکالا جاتا ہے، اگر اس دوران جراثیم شامل ہو جائیں تو وہ متعدد افراد میں منتقل ہو سکتے ہیں۔ یہ عمل خاص طور پر بچوں کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے، تاہم بزرگ اور خواتین بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

‎پروفیسر فیصل محمود کا کہنا تھا کہ ایچ آئی وی کے رپورٹ ہونے والے کیسز اصل تعداد کے مقابلے میں کم ہیں، جبکہ ہیپاٹائٹس بی اور سی کے کیسز کی تعداد کہیں زیادہ ہے، جس کے باعث پاکستان ہیپاٹائٹس سی کے حوالے سے دنیا میں سرِفہرست ممالک میں شامل ہے۔

‎انہوں نے واضح کیا کہ ایچ آئی وی کے علاج کے لیے مؤثر ادویات موجود ہیں، جن کے باقاعدہ استعمال سے مریض نارمل زندگی گزار سکتے ہیں۔ جو مریض علاج پر ہوتے ہیں وہ وائرس کو دوسرے افراد میں منتقل نہیں کرتے۔ ایچ آئی وی کے مریض اکثر معاشرتی منفی رویوں کے خوف سے اپنی بیماری چھپاتے ہیں حالانکہ یہ کسی کو بھی ہو سکتی ہے کیونکہ دانتوں کے علاج، سرنج کے استعمال اور دیگر طبی اقدامات سے ہر فرد گزرتا ہے۔

‎انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ بعض اوقات معالج کی جانب سے ایچ آئی وی کی ٹیسٹنگ پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ سندھ میں انفیکشن کنٹرول کے حوالے سے ہزاروں افراد کو تربیت دی جا چکی ہے، جو آگے مزید لوگوں کو ٹرین کر رہے ہیں، تاہم ملک بھر کے طبی مراکز میں انفیکشن کنٹرول کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ ایک مہنگا عمل سمجھا جاتا ہے۔

‎نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام سروے کے مطابق منشیات کے عادی افراد میں 30 سے 50 فیصد، ٹرانس جینڈر افراد میں 7 فیصد، ہم جنس پرستوں میں 5 فیصد جبکہ فیمیل سیکس ورکرز میں 2 فیصد افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہیں۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اب یہ مخصوص آبادیوں تک محدود نہیں۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article لاہور میں منکی پاکس کا خطرہ سنگین ،مرض ایک شخص سے دوسرے کو منتقل ہونے لگا
Next Article مسجد الحرام میں اوپر سے گرنے والے شخص کو گارڈ نے بچا لیا 
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
امریکی سفیر کی بے دخلی: کینیڈین پٹیشن پر 1 لاکھ 70 ہزار سے زائد دستخط
امریکی سفیر کی بے دخلی: کینیڈین پٹیشن پر 1 لاکھ 70 ہزار سے زائد دستخط
تازہ ترین سیاست
اگست 16, 2026
بیلجیئم: پرانی بریوری کی کھدائی کے دوران ایک کروڑ ڈالر کا سونا برآمد
بیلجیئم: پرانی بریوری کی کھدائی کے دوران ایک کروڑ ڈالر کا سونا برآمد
بریکنگ نیوز
اگست 16, 2026
آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن: ایل اے 17 پر چوہدری یاسین راٹھور کی کامیابی برقرار
آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن: ایل اے 17 پر چوہدری یاسین راٹھور کی کامیابی برقرار
تازہ ترین سیاست
اگست 16, 2026
اینتھروپک کے ممکنہ آئی پی او کے لیے 200 ارب ڈالر کی آمدنی کا ہدف
اینتھروپک کے ممکنہ آئی پی او کے لیے 200 ارب ڈالر کی آمدنی کا ہدف
Technology تازہ ترین
اگست 16, 2026
کارتک آریان کو صدر دروپدی مرمو کی یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کی دعوت
کارتک آریان کو صدر دروپدی مرمو کی یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کی دعوت
انٹرٹینمنٹ تازہ ترین
اگست 16, 2026
پون ملہوترا کی یامی گوتم، کارتک آریان اور سنجے مشرا کی اداکاری کی تعریف
پون ملہوترا کی یامی گوتم، کارتک آریان اور سنجے مشرا کی اداکاری کی تعریف
انٹرٹینمنٹ تازہ ترین
اگست 16, 2026

You Might Also Like

ابتدائی آزمائشوں میں امپلانٹ شدہ آئلٹ سیل ڈیوائس نے کئی ہفتوں تک گلوکوز کی سطح مستحکم رکھی
Health

ابتدائی آزمائشوں میں امپلانٹ شدہ آئلٹ سیل ڈیوائس نے کئی ہفتوں تک گلوکوز کی سطح مستحکم رکھی ذیابیطس کے علاج کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ابتدائی طبی آزمائشوں میں ایک امپلانٹ شدہ آئلٹ سیل (Islet Cell) ڈیوائس نے مریضوں میں کئی ہفتوں تک خون میں گلوکوز کی سطح کو مؤثر طور پر مستحکم رکھنے کے حوصلہ افزا نتائج دکھائے ہیں۔ محققین کے مطابق یہ جدید ڈیوائس انسولین پیدا کرنے والے آئلٹ خلیات پر مشتمل ہے، جنہیں جسم میں نصب کیا جاتا ہے تاکہ وہ قدرتی لبلبے (Pancreas) کی طرح خون میں شوگر کی سطح کو منظم کرنے میں مدد دے سکیں۔ ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ ڈیوائس نے گلوکوز کے اتار چڑھاؤ کو کم کرنے اور خون میں شوگر کے بہتر کنٹرول میں اہم کردار ادا کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ٹائپ 1 ذیابیطس کے مریضوں کے لیے امید افزا ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس بیماری میں جسم کا مدافعتی نظام انسولین پیدا کرنے والے خلیات کو تباہ کر دیتا ہے۔ موجودہ علاج میں مریضوں کو روزانہ انسولین کے انجیکشن یا پمپ پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ تحقیق کے دوران ڈیوائس کو محدود تعداد میں مریضوں میں آزمایا گیا، جہاں کئی شرکاء میں ہفتوں تک گلوکوز کی سطح نسبتاً مستحکم رہی اور انسولین کی ضرورت میں بھی کمی دیکھی گئی۔ اگرچہ نتائج ابتدائی مرحلے کے ہیں، تاہم سائنسدان انہیں ذیابیطس کے علاج میں ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔ محققین نے واضح کیا کہ ڈیوائس کی طویل مدتی کارکردگی، حفاظت اور بڑے پیمانے پر استعمال کی صلاحیت جانچنے کے لیے مزید کلینیکل ٹرائلز درکار ہوں گے۔ اس کے باوجود ابتدائی شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مستقبل میں ایسی ٹیکنالوجیز ذیابیطس کے مریضوں کو زیادہ خودمختار اور بہتر معیارِ زندگی فراہم کر سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر آئندہ آزمائشوں میں بھی مثبت نتائج سامنے آتے ہیں تو یہ طریقہ کار ذیابیطس کے روایتی علاج میں انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے اور مریضوں کے لیے مسلسل گلوکوز کنٹرول کا ایک نیا اور مؤثر حل فراہم کر سکتا ہے۔

By Misbah Jogyat
Health

سافٹ ڈرنک پینے سے ڈپریشن کا امکان بڑھ سکتا ہے، تحقیق میں انکشاف

By Neha Ashraf
Health

محکمہ بہبودِ آبادی سندھ کی جانب سے ابراہیم حیدری میں مفت طبی کیمپ کا انعقاد

By Neha Ashraf
Health

دوسری قومی انسدادِ پولیو مہم اپریل میں شروع کرنے کا فیصلہ

By Neha Ashraf
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?