کراچی میں فالج کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سول اسپتال کراچی کے ایمرجنسی انچارج ڈاکٹر عمران سرور نے کہا کہ فالج اب صرف عمر رسیدہ افراد تک محدود نہیں رہا بلکہ نوجوان بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں جنہیں اکثر بلڈ پریشر یا ذیابیطیس جیسے امراض کا علم ہی نہیں ہوتا یا پھر وہ ادویات میں بے احتیاطی کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی میں روزانہ 8 سے 10 فالج کے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں ڈاکٹر عمران کے مطابق پہلے فالج کی زیادہ تر وہ قسم دیکھی جاتی تھی جس میں دماغ کی شریانیں بند ہو جاتی ہیں، مگر اب دماغی شریان پھٹنے (برین ہیمرج) کے کیسز بھی آنا شروع ہوگئے ہیں، جو پہلے نہ ہونے کے برابر تھے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عمران سرور نے کہا کہ تین سے چار ماہ قبل روزانہ صرف 2 سے 3 فالج کے مریض ایمرجنسی میں آتے تھے مگر اب یہ تعداد روزانہ 8 سے 10 تک جا پہنچی ہے جبکہ بعض اوقات ایک دن میں 15 مریض بھی لائے جا رہے ہیں۔
وجوہات اور احتیاطی تدابیر:
طبی ماہرین کے مطابق فالج کی چند بڑی وجوہات میں ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا، شوگر، کم خوراک اور سگریٹ نوشی بھی شامل ہے۔ ڈاکٹر عمران نے عوام سے گزارش کی کہ وہ کھانوں پر ٹیبل سالٹ چھڑکنے، بہت زیادہ نمکین غذا کھانے، اور غیر متحرک طرزِ زندگی سے گریز کریں۔
روزانہ کی سادہ واک اور ورزش آدھے سے زیادہ مریضوں کو فالج سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق لوگوں کو صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کے ساتھ ساتھ باقاعدگی سے بلڈ پریشر بھی چیک کروانا چاہیے۔
