دسمبر 31، 2025
ویب ڈیسک
کوئٹہ: عورت فاؤنڈیشن بلوچستان نے جنوری تا دسمبر 2025 کے دوران خواتین پر تشدد کی صورتحال پر مبنی اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے، جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ صوبے میں خواتین کے خلاف سنگین نوعیت کے تشدد کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال بھر میں خواتین پر تشدد کے 123 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں قتل، غیرت کے نام پر قتل، اغواء، ہراسانی، گھریلو تشدد، جنسی زیادتی اور خودکشی جیسے واقعات شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اصل صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین ہو سکتی ہے کیونکہ بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔
سال 2025 میں بلوچستان میں مجموعی طور پر 65 خواتین اور 25 مرد قتل ہوئے جن میں سے 33 خواتین اور 25 مردوں کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق 2 خواتین نے گھریلو مسائل سے تنگ آ کر خودکشی کی، جبکہ 5 خواتین کو ہراسانی، 9 کو گھریلو تشدد، 6 کو جنسی زیادتی اور 11 کو اغواء کا سامنا کرنا پڑا۔
خواتین و اطفال سہولت مرکز (WJFC) کو بھی سال کے دوران 129 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں 35 ہراسانی، 37 گھریلو تشدد، 4 گمشدگی، 4 دھمکیوں، 14 بلیک میلنگ، 1 ڈیجیٹل تشدد اور 8 مالی فراڈ کے کیسز شامل تھے۔ پولیس کی جانب سے متاثرہ خواتین کو معاونت، کونسلنگ اور ابتدائی امداد فراہم کی گئی۔
سب سے زیادہ تشویش غیرت کے نام پر قتل کے واقعات پر ظاہر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال بھر میں 58 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں جafferabad میں 10 کیسز سامنے آئے۔ سبی اور لسبیلہ میں 4، جبکہ نوشکی، خاران، مستونگ، لورالائی اور چاغی میں بھی کیسز رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ میں 2019 تا 2025 کے ضلع وار اعداد و شمار بھی شامل ہیں جن کے مطابق کوئٹہ 103 کیسز کے ساتھ سرفہرست رہا۔ اس کے بعد نصیر آباد، جعفرآباد، لسبیلہ، سبی، پنجگور اور خضدار میں بھی ایسے واقعات رپورٹ ہوئے۔
عورت فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ رپورٹنگ کا کم یا زیادہ ہونا اصل صورتحال کا درست عکاس نہیں، کیونکہ سماجی دباؤ، خوف اور رسائی کی کمی کی وجہ سے بہت سے واقعات منظرِعام پر نہیں آتے۔ ادارے نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد اور غیرت کے نام پر قتل کے کیسز میں سنجیدگی، بروقت اندراج، شفاف تحقیقات اور قانون کے سخت نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔
