سندھ ہائی کورٹ کے سکھر بینچ نے صوبائی حکومت کو ہدایت جاری کی ہے کہ طلبہ کے لیے ایک جامع اور شفاف لیپ ٹاپ اسکیم متعارف کرائی جائے تاکہ ڈیجیٹل تعلیم اور جدید تعلیمی وسائل تک رسائی کو فروغ دیا جا سکے۔ عدالت نے حکومت کو 45 دن کے اندر اسکیم کو حتمی شکل دینے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل کرنے کی ہدایت دی ہے۔
جسٹس امجد علی بوہیو اور جسٹس علی حیدر آدی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ موجودہ دور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا دور ہے، جہاں لیپ ٹاپ اور آن لائن تعلیمی وسائل تک رسائی معیاری تعلیم کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ڈیجیٹل آلات اب عیش و عشرت نہیں بلکہ تعلیمی ضرورت بن چکے ہیں۔
عدالتی حکم کے مطابق چیف سیکریٹری سندھ کو اسکول ایجوکیشن، کالج ایجوکیشن، یونیورسٹیز اینڈ بورڈز، سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور فنانس سمیت متعلقہ محکموں کے ساتھ مشاورت کرکے صوبہ بھر کے طلبہ کے لیے ایک مربوط پالیسی تیار کرنا ہوگی۔ اس پالیسی میں میرٹ، شفافیت اور مساوی تقسیم کے اصولوں کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
عدالت نے زور دیا کہ اسکیم کے تحت اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح کے مستحق اور اہل طلبہ کو شامل کیا جائے تاکہ انہیں تحقیق، آن لائن تعلیم اور جدید تعلیمی مواقع سے فائدہ اٹھانے کے بہتر امکانات میسر آ سکیں۔
یہ معاملہ ایک آئینی درخواست کے ذریعے عدالت کے سامنے لایا گیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سندھ کے طلبہ کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں ڈیجیٹل تعلیمی سہولیات کم میسر ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 25-A کے تحت تعلیم کا حق صرف روایتی تدریس تک محدود نہیں بلکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈیجیٹل رسائی بھی اس کا حصہ ہے۔
عدالت نے سندھ حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ 4 اگست 2026 تک عملدرآمد سے متعلق پیش رفت رپورٹ بھی جمع کرائے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر اسکیم مؤثر انداز میں نافذ کی گئی تو یہ صوبے میں ڈیجیٹل شمولیت، آن لائن تعلیم اور طلبہ کی تعلیمی کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
