کراچی — صوبائی پولیس چیف کے مطابق کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں دہشت گردوں نے رینجرز کے ایک ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں سندھ رینجرز کے کم از کم تین اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے ہیں۔ سندھ پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) جاوید عالم اوڈھو نے تصدیق کی ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کے دوران رینجرز کے مقامی ہیڈ کوارٹرز پر حملہ کرنے والے تینوں دہشت گردوں کو بھی ہلاک کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق، دہشت گردوں نے بارود سے بھری ایک گاڑی کو رینجرز ہیڈ کوارٹرز کے مرکزی دروازے سے ٹکرایا، جس کے بعد موسمیات چورنگی کے قریب زوردار دھماکے اور شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کے اعلیٰ حکام سمیت اسپیشل سیکیورٹی یونٹ (ایس ایس یو) کے کمانڈوز، اینٹی ٹیررسٹ فورس (اے ٹی ایف) اور ریپڈ ریسپانس فورس کے دستے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ کسی بھی دوسرے ممکنہ خطرے کو ختم کرنے کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن اور کلیئرنس کی کارروائی جاری ہے۔ ریسکیو 1122 سندھ کی ٹیموں کو بھی ہنگامی بنیادوں پر جائے وقوعہ پر روانہ کیا گیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور صوبائی وزیرِ داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے گلستانِ جوہر میں ہونے والے اس دہشت گردی کے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ حکام نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ شہر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور واقعے کے پیچھے چھپے عناصر کا سراغ لگانے کے لیے تمام ضروری اور سخت اقدامات کیے جائیں۔
