اسلام آباد: ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے 10 افسران سمیت 13 افراد کے خلاف کرپشن، رشوت اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات پر مقدمہ درج کرلیا۔
ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ اسٹیٹ کی مدعیت میں اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد میں درج کیا گیا، جو انکوائری نمبر 326/2025 کے تحت شروع کی گئی تھی۔ انکوائری کے دوران راولپنڈی کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں غیر ملکیوں، خصوصاً چینی شہریوں کے زیر انتظام 15 کال سینٹرز کی نشاندہی ہوئی، جہاں مبینہ طور پر مختلف فراڈز کے ذریعے عوام کو لوٹا جا رہا تھا۔
تحقیقات کے مطابق نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے افسران، جن میں دو ایڈیشنل ڈائریکٹرز بھی شامل ہیں، ان غیر قانونی سرگرمیوں کی پشت پناہی کرتے ہوئے ماہانہ 1 کروڑ 50 لاکھ روپے تک رشوت وصول کرتے رہے۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مجموعی طور پر تقریباً 25 کروڑ روپے کی مبینہ رشوت مختلف ادوار میں وصول کی گئی، جب کہ ادارے کی تشکیل نو کے بعد بھی غیر قانونی عمل جاری رہا اور مزید 5 کروڑ روپے فرنٹ مینوں کے ذریعے لیے گئے۔
رپورٹ میں گرفتار چینی شہری گو کاشیان عرف کیلون اور اس کی پاکستانی اہلیہ کا بھی ذکر ہے، جن سے مبینہ طور پر 2 کروڑ 10 لاکھ روپے رشوت لی گئی۔ این سی سی آئی اے راولپنڈی میں تعینات سب انسپکٹر صارم علی پر چینی شہری پر تشدد اور اس کی ویڈیوز اہلیہ کو واٹس ایپ پر بھیجنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق تحقیقات کے دوران کرپشن سے متعلق ویڈیوز، چیٹس اور دیگر ڈیجیٹل شواہد برآمد ہوئے۔ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 109، 161، 386، 420 اور انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2)47 کے تحت درج کیا گیا ہے۔
تحقیقات کے لیے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد صفیر احمد، انسپکٹر محمد وحید خان اور سب انسپکٹر شمس گوندل پر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جب کہ ایف آئی اے نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے شروع کر دیے ہیں۔
