کراچی کے مصروف ترین علاقے گلشنِ اقبال میں بدھ کی شام نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی گاڑی کو دستی بم حملے کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو اہلکار زخمی ہو گئے۔
دھماکہ ڈسکو بیکری کے قریب اس وقت ہوا جب سی ٹی ڈی کی موبائل معمول کے گشت پر تھی۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے اور قریبی دکانوں کے باہر موجود شہریوں میں شدید بھگدڑ مچ گئی۔
امدادی ٹیموں اور پولیس نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر زخمیوں کو قریبی نجی ہسپتال منتقل کیا۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق دونوں اہلکاروں کو جسم کے اوپری حصوں پر زخم آئے ہیں، تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
حملے کے فوری بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے اور حملے کے فوراً بعد گلشنِ اقبال کی گنجان آبادی والی گلیوں میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
یہ حملہ شہر میں دہشت گردی کے نئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جہاں اب ٹارگٹ کلنگ کے بجائے عوامی مقامات پر دھماکہ خیز مواد کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ تاحال کسی بھی کالعدم تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم سی ٹی ڈی اہلکاروں کو نشانہ بنانا عسکریت پسند گروپوں کی جانب سے ایک واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے۔
پولیس کی فرانزک ٹیمیں جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر رہی ہیں تاکہ استعمال ہونے والے دستی بم کی نوعیت کا تعین کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ قریبی دکانوں اور تجارتی مراکز میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہے تاکہ حملہ آوروں کے فرار کے راستوں کی نشاندہی ہو سکے۔
گلشنِ اقبال کے مکینوں کے لیے یہ واقعہ ماضی کی تلخ یادیں تازہ کر گیا ہے۔ جس وقت یہ حملہ ہوا، ڈسکو بیکری کا یہ مقام خریداروں اور فیملیز سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ واقعے کے بعد علاقے کی کاروباری سرگرمیاں معطل ہو گئیں اور سڑکوں پر سناٹا چھا گیا۔
صوبائی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم وزارتِ داخلہ نے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) سے سیکیورٹی کی اس مبینہ خامی پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔ تفتیشی حکام کے سامنے اب سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ حملہ آوروں نے شہر کے انتہائی مصروف ترین علاقے میں سی ٹی ڈی کی موبائل کو کس طرح ٹریس کیا اور سیکیورٹی حصار کو کیسے عبور کیا۔
