آبنائے ہرمز میں کشیدگی ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے، جب امریکی افواج نے دو ایرانی پرچم بردار آئل ٹینکروں پر فائرنگ کر کے انہیں ناکارہ بنا دیا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ جہاز امریکی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہے تھے، جبکہ تہران نے اس کارروائی کو “لاپروانہ” اور جنگ بندی کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے سے موجود نازک جنگ بندی ویسے ہی دباؤ میں تھی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تازہ جھڑپ صرف ایک الگ واقعہ نہیں تھی بلکہ اس سے پہلے بھی خطے میں کئی فوجی ٹکراؤ ہو چکے تھے۔ امریکی مؤقف یہ ہے کہ ایرانی کارروائیوں نے امریکی بحری جہازوں اور آبنائے سے گزرنے والی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالا، جس کے بعد جوابی حملے کیے گئے۔ دوسری طرف ایران اصرار کر رہا ہے کہ امریکہ خود کشیدگی بڑھا رہا ہے اور اسی نے جنگ بندی کی اصل روح کو نقصان پہنچایا۔
ایرانی حکام کی زبان اس بار خاصی سخت رہی۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق تہران نے امریکی حملوں کو سفارت کاری سے انحراف اور طاقت کے بے احتیاط استعمال کے طور پر پیش کیا ہے۔ ایران کی کوشش بظاہر یہ ہے کہ وہ عالمی سطح پر یہ تاثر دے کہ مذاکرات کا دروازہ ابھی مکمل بند نہیں ہوا، مگر واشنگٹن میدان میں دباؤ بڑھا کر حالات اپنے حق میں موڑنا چاہتا ہے۔
امریکی مؤقف اس کے بالکل برعکس ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے 5 مئی 2026 کے بیان میں کہا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو دھمکی دے رہا ہے، بارودی سرنگوں اور ٹول جیسے اقدامات کے ذریعے عالمی تجارت کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ واشنگٹن اسی دلیل کے تحت اپنی کارروائیوں کو “فریڈم آف نیویگیشن” یعنی سمندری آمدورفت کے تحفظ سے جوڑ رہا ہے۔
اس واقعے کی اہمیت صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، اور یہاں کسی بھی فوجی جھڑپ کا اثر فوراً تیل کی ترسیل، جہاز رانی کے اخراجات، انشورنس ریٹس اور عالمی منڈیوں پر پڑتا ہے۔ گارڈین کی رپورٹ کے مطابق حالیہ کشیدگی کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 101 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ مارکیٹ اس بحران کو محض معمول کی سرحدی جھڑپ نہیں سمجھ رہی۔
واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اب بھی یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ جنگ بندی تکنیکی طور پر برقرار ہے، حالانکہ زمینی اور بحری واقعات کچھ اور کہانی سنا رہے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی حملہ ایک بحری آپریشن کے تناظر میں ہوا، جبکہ ساتھ ہی امریکہ ایران کے ممکنہ امن جواب کا انتظار بھی کر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گولی بھی چل رہی ہے اور مذاکرات بھی، اور یہی چیز صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
اب اصل سوال یہ نہیں رہا کہ جنگ بندی موجود ہے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ وہ عملی طور پر کتنی باقی بچی ہے۔ ایک طرف ٹینکروں پر فائرنگ، دوسری طرف جوابی دھمکیاں، اور اس کے ساتھ خلیج میں مسلسل فوجی نقل و حرکت — یہ سب مل کر بتا رہے ہیں کہ حالات ایک معمولی غلط اندازے سے بھی بڑی جنگی شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ فی الحال سفارت کاری مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، مگر حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں ہر نیا واقعہ امن کوششوں کو مزید کمزور کر رہا ہے۔
