کام میں عدم دلچسپی اور بات بات پر چڑچڑا پن اور غصہ کا اظہار کرنا برن آؤٹ کی علامات ہیں۔ اس سے صحت پر بہت منفی اثر پڑتا ہے لہٰذا اس پر قابو پانا بہت ضروری ہے۔
برن آؤٹ کی اصطلاح 1970 کی دہائی میں معروف ماہر نفسیات ہربرٹ فرائیڈنبرگر نے وضع کی تھی۔ اس نے برن آؤٹ کو ایک سنگین اور دباؤ والی حالت قرار دیا تھا۔
ماہر نفسیات کے مطابق یہ کیفیت شدید جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی تھکن کا باعث بنتی ہے، اس حالت کا منفی اثر آپ کی زندگی کے ہر شعبے میں بگاڑ پیدا کر سکتا ہے۔
جب آپٟ کا کوئی رشتہ دار یا دوست برن آؤٹ کا شکار ہوتا ہے، تو اسے آپ کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگرچہ پیشہ ورانہ مدد حاصل کرنا اور تشخیص کرنا پہلا اہم قدم ہے، رشتہ دار اور دوست بھی متاثرہ شخص کے لیے چیزوں کو آسان بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جب آپ کا کوئی قریبی عزیز برن آؤٹ کا شکار ہو تو سب سے اہم بات سمجھنا ضروری ہے۔ مثالی طور پر رشتہ داروں کو اس بیماری کے بارے میں خود کو آگاہ کرنا چاہیے اور پیشہ ورانہ مدد کا بندوبست کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر کے مطابق اس لیے یہ ضروری ہے کہ تشخیص ہمیشہ ایسے ماہرین نفسیات سے کریں جن کے پاس تشخیصی تجربہ ہو۔ برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق برن آؤٹ کی دیگر علامات میں پٹھوں میں درد، سر درد، نیند کے مسائل، وزن میں اضافہ یا کمی اور یادداشت کے مسائل بھی شامل ہیں۔
یاد رکھیں !! برن آؤٹ ( یا شدید ذہنی و جسمانی تھکاوٹ) کا علاج طرز زندگی میں تبدیلی، آرام اور نفسیاتی مدد کے امتزاج سے ممکن ہے۔
اس کے علاوہ اہم اقدامات میں متوازن غذا (اومیگا 3)، باقاعدہ ورزش، نیند کے معمولات میں بہتری، کام اور زندگی میں حدود کا تعین اور ضرورت پڑنے پر مختلف تھراپیز شامل ہیں۔
