کراچی، 22 اگست 2025 — سنگھڑ میں کار سے مردہ پائے جانے والے صحافی خاور حسین کی موت کو تحقیقاتی کمیٹی نے جامع تحقیقات کے بعد خودکشی قرار دے دیا ہے۔
سندھ پولیس کے انسپکٹر جنرل کو پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق تحقیقات میں سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک شواہد اور میڈیکل رپورٹس کو بنیاد بنایا گیا، جن سے ثابت ہوا کہ خاور حسین نے اپنے لائسنس یافتہ پستول سے خود پر فائر کیا۔ فوٹیج میں ان کی نقل و حرکت کراچی سے سنگھڑ تک دیکھی گئی، جس میں وہ مقامی ریسٹورنٹ میں کھانے کے بعد گاڑی میں واپس آئے اور تقریباً دو گھنٹے تک تنہا بیٹھے رہے۔
تاہم خاور حسین کے اہلِ خانہ نے اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ قتل ہے۔ امریکہ سے آئے ان کے والد نے کہا کہ "خاور ایک بہادر شخص تھا، وہ کبھی اپنی جان نہیں لے سکتا۔” اہلِ خانہ کے اعتراضات پر ایک میڈیکل بورڈ نے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا جس میں جسم پر تشدد کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
تحقیقات میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ خاور حسین نے اپنی ایک موبائل فون کو فیکٹری ری سیٹ کر کے تمام ڈیٹا حذف کر دیا اور سم کارڈ نکال دیا تھا، جبکہ دوسرا موبائل فون تاحال لاپتہ ہے۔
یہ انکوائری ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی آزاد خان، ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ اور ایس ایس پی سنگھڑ عابد بلوچ کی سربراہی میں جاری ہے اور حتمی رپورٹ صوبائی وزیر داخلہ کو پیش کی جائے گی۔
صحافی برادری اور کراچی پریس کلب نے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
خاور حسین کو سنگھڑ کے عیدگاہ قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا، جہاں بڑی تعداد میں صحافیوں، سیاسی رہنماؤں اور اہل خانہ نے شرکت کی۔
