راولپنڈی: پولیس نے ایک نجی اکیڈمی کے پرنسپل کو دسویں جماعت کی طالبہ کو مبینہ طور پر بار بار زیادتی کا نشانہ بنانے اور اسقاط حمل پر مجبور کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔
ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ لڑکی، جو پیرودھائی کے علاقے خیابانِ سِر سید کی رہائشی ہے، نے بیان دیا کہ پرنسپل نے ابتدا میں اسے میٹرک میں اچھے نمبر دلانے کا وعدہ کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس نے اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے شادی کا جھوٹا وعدہ کر کے اسے جنسی تعلقات پر مجبور کیا۔
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ جب متاثرہ لڑکی حاملہ ہوئی تو ملزم نے اسے دوائی دے کر اسقاط حمل پر مجبور کیا۔ متاثرہ کا کہنا ہے کہ اس کے بعد بھی زیادتی کا سلسلہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں وہ دوبارہ حاملہ ہوئی۔ شادی کا مطالبہ کرنے پر ملزم نے انکار کر دیا اور اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔
ایس پی راول ارشد کے مطابق پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے اور عدالت میں ٹھوس شواہد پیش کیے جائیں گے تاکہ ملزم کو عبرتناک سزا دی جا سکے۔
