راولپنڈی: شادی کے نام پر دھوکا دے کر ایک پاکستانی لڑکی کو مبینہ طور پر چینی شہریوں کے ہاتھوں فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ متاثرہ لڑکی کا ویڈیو بیان بھی سامنے آگیا ہے، جس کے بعد پولیس نے معاملے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
راولپنڈی پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کی درخواست اور بیان کی روشنی میں تھانہ صادق آباد میں مقدمے کی جانچ جاری ہے۔
ویڈیو بیان میں متاثرہ لڑکی نے دعویٰ کیا کہ وہ صادق آباد کی رہائشی ہے اور عنایہ نامی خاتون نے اس سے کہا کہ اس کے والدین وفات پاچکے ہیں، اس لیے وہ اس کی شادی ایک چینی شہری سے کرادے گی جو اسے خوش رکھے گا۔
متاثرہ نے الزام عائد کیا کہ شادی کے بعد چینی شوہر نے انکشاف کیا کہ اسے 17 لاکھ روپے میں خریدا گیا ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ شادی کو تین ماہ گزر چکے ہیں اور وہ حاملہ ہے، لیکن ادویات کے لیے رقم مانگنے پر چینی شوہر نے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کرے گا کیونکہ وہ اسے خرید چکا ہے۔
لڑکی نے مزید الزام لگایا کہ عنایہ غریب لڑکیوں کو خرید کر فروخت کرتی ہے اور اس کے خلاف سخت کارروائی کی اپیل کی۔
بیان کے مطابق شادی کے بعد چینی شہری اسے اسلام آباد کے ای الیون لے گیا، جہاں دیگر چینی افراد بھی آتے جاتے تھے، اور اسی دوران اسے معلوم ہوا کہ اس کی شادی نہیں ہوئی بلکہ اسے 17 لاکھ روپے میں بیچ دیا گیا ہے۔
متاثرہ نے بتایا کہ جب اس نے اپنے چینی شوہر سے پوچھا تو اس نے بھی تصدیق کی کہ رقم عنایہ کو دی گئی ہے۔ اس کے بعد سے چینی شہری اور عنایہ دونوں غائب ہیں، جبکہ وہ حاملہ ہوکر بے یار و مددگار پھر رہی ہے اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
پولیس ترجمان نے تصدیق کی کہ معاملے کی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں اور تحقیقاتی عمل جاری ہے۔
