وفاقی حکام نے پانچ افراد پر ایک بڑے میڈیکیئر فراڈ کیس کے سلسلے میں فردِ جرم عائد کی ہے، جس میں جعلی میڈیکل بلنگ، شیل کمپنیز اور عیاشی پر مبنی اخراجات شامل ہیں۔
تحقیقات کے مطابق، ملزمان نے مبینہ طور پر جعلی یا “شیل” کمپنیاں قائم کیں اور انہیں استعمال کرتے ہوئے میڈیکیئر کو ایسے طبی خدمات کے لیے کروڑوں ڈالر کے جھوٹے دعوے جمع کرائے جو یا تو فراہم ہی نہیں کی گئیں یا پھر طبی طور پر ضروری نہیں تھیں۔ یہ اسکیم کئی سالوں میں مبینہ طور پر دسیوں ملین ڈالر کی غیر قانونی ادائیگیوں کا سبب بنی۔
حکام کا کہنا ہے کہ چوری شدہ رقم کو اس کے اصل ماخذ کو چھپانے کے لیے مختلف کاروباری اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کیا گیا۔ بعض صورتوں میں یہ رقم لگژری اشیاء خریدنے کے لیے استعمال کی گئی، جن میں فیراری جیسی مہنگی گاڑیاں، قیمتی زیورات اور دیگر اثاثے شامل ہیں۔
حکام اس کیس کو صحت کے شعبے میں ہونے والی فراڈ کے خلاف وسیع کریک ڈاؤن کا حصہ قرار دیتے ہیں، جس میں مجرم حکومتی ہیلتھ پروگرام جیسے میڈیکیئر کو مالی فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پانچوں ملزمان کو اب سنگین وفاقی الزامات کا سامنا ہے، جن میں سازش (conspiracy)، ہیلتھ کیئر فراڈ، اور منی لانڈرنگ شامل ہیں۔
اگر یہ افراد مجرم ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں طویل قید اور بھاری مالی جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کیس سے جڑے دیگر افراد اور کمپنیز کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔
