اسلام آباد، پاکستان — 15 ستمبر: طلبہ نے اسکولوں میں چھ ماہ طویل بندش کے بعد دوبارہ کلاسز کے آغاز پر کورونا وائرس (کووِڈ-19) سے بچاؤ کے لیے ماسک پہن رکھے ہیں۔ یہ منظر اسلام آباد میں ترک معارف فاؤنڈیشن کے کیمپس کا ہے۔ پاکستانی وزارتِ تعلیم کے مطابق، ملک بھر میں تمام اعلیٰ تعلیمی ادارے دوبارہ کھول دیے گئے، جبکہ نویں سے بارہویں جماعت کے طلبہ نے بھی اسی روز اسکولوں کا رخ کیا۔ (تصویر: محمد سمیح اوغلو/اناضولو ایجنسی بذریعہ گیٹی امیجز)
فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (FBISE) نے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی تمام کلاسوں کے لیے نئے نصاب کے فوری نفاذ کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت پرانا نصاب باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
بورڈ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، فیڈرل بورڈ سے منسلک تمام تعلیمی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بورڈ کی سرکاری ویب سائٹ سے نیا نصاب ڈاؤن لوڈ کریں اور فوری طور پر اسے نافذ کریں۔ یہ نیا نصاب جدید تعلیمی تقاضوں کے مطابق تیار کیا گیا ہے اور پاکستان بھر میں بورڈ کے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام اسکولوں اور کالجوں پر لاگو ہوگا۔
یہ فیصلہ وفاقی حکومت کے وسیع تر تعلیم اور ٹیکنالوجی کے ایجنڈے کے مطابق کیا گیا ہے۔ اس سے قبل وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ آئی ٹی سیکٹر کو مضبوط بنانا اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ کرنا قومی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اعلیٰ معیار اور یکساں آئی ٹی تعلیم و تربیت کو یقینی بنانے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیں۔
وزیرِ اعظم نے یہ بھی ہدایت کی تھی کہ چھٹی جماعت سے آئی ٹی کو ایک مضمون کے طور پر متعارف کرایا جائے اور اسلام آباد، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور بلوچستان میں خصوصی آئی ٹی ٹریننگ پروگرامز شروع کیے جائیں۔ انہوں نے مزید زور دیا کہ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں آئی ٹی تعلیم کو بین الاقوامی معیار کے مطابق فروغ دیا جائے تاکہ فارغ التحصیل طلبہ کے لیے روزگار کے بہتر مواقع پیدا ہوں۔
اس حوالے سے دی گئی ایک بریفنگ میں حکام نے بتایا کہ اسلام آباد کے اسکولوں میں انٹرنیٹ سہولیات کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے تاکہ ڈیجیٹل لرننگ اور آئی ٹی تعلیم کے منصوبوں کو بہتر طریقے سے فروغ دیا جا سکے۔
