لاہور، 7 اگست: لاہور ہائی کورٹ نے ایک 30 سالہ شخص کی موت کی وجہ جاننے کے لیے اس کی قبر کشائی اور طبی معائنہ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس راجہ غضنفر علی خان نے متوفی کے والد محمد یعقوب کی جانب سے دائر درخواست پر دیا۔
محمد یعقوب نے عدالت کو بتایا کہ 13 اپریل کو اس کے بیٹے کی لاش عباس گجر کے ڈیرے سے ملی تھی، اور بغیر قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے دفن کر دی گئی۔ درخواست گزار نے کہا کہ اس نے 17 اپریل کو تھانہ کاہنہ کے ایس ایچ او سے ایف آئی آر درج کرانے اور قبر کشائی کی اجازت کی درخواست کی، مگر ابتدائی طور پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے ایف آئی آر کے عدم اندراج کی بنیاد پر درخواست مسترد کر دی۔
بعد ازاں، 12 جولائی 2025 کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے مجسٹریٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے قبر کشائی کا حکم جاری کیا۔ مخالف فریق نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے کیس کو لاہور ہائی کورٹ میں لے آیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران، محمد یعقوب نے موقف اختیار کیا کہ اس کے بیٹے کی موت کی حقیقت جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم ضروری ہے۔ دلائل سننے کے بعد جسٹس راجہ غضنفر علی خان نے قبر کشائی اور طبی معائنے کی اجازت دے دی۔
یہ فیصلہ کیس میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
