پنجاب کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی کی منظوری دیتے ہوئے سمری وفاقی حکومت کو ارسال کر دی ہے۔ صوبے میں نئے اسلحہ لائسنس کے اجرا پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جب کہ نماز اور خطبے کے علاوہ لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جن لوگوں کے پاس غیر قانونی اسلحہ ہے، وہ ایک ماہ کے اندر اندر حکومت کے پاس جمع کرا دیں، بصورت دیگر ان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ مذہب کے نام پر اپنی سوچ مسلط کرنا قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کی کال اس وقت دی گئی جب غزہ میں جنگ بندی ہو چکی تھی — دنیا نے غزہ جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پرتشدد احتجاج کرنے والے ملک اور قوم کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ پنجاب کابینہ نے ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دے دی ہے اور انتہا پسند جماعت کے خلاف سمری وفاقی حکومت کو بھیج دی گئی ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ لاؤڈ اسپیکر ایکٹ پر زیرو ٹالرنس ہو گی۔ کوئی بھی مسجد، منبر یا مدرسہ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے نفرت، اشتعال انگیزی یا تشدد پر اکسانے کی اجازت نہیں پائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں دفعہ 144 نافذ ہے، کسی بھی جگہ چار سے زیادہ افراد کے جمع ہونے کی اجازت نہیں۔ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد یا جلاؤ گھیراؤ کو “قومی مقصد” بنا کر پیش کرنے والوں کے خلاف سائبر کرائم قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ انتہا پسند جماعت کے تمام سوشل میڈیا اور بینک اکاؤنٹس کو سیل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی یا غیر سیاسی سفارش پر اب کوئی اسلحہ لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا۔ غیر قانونی اسلحہ رکھنے والے ایک ماہ کے اندر اسے حکومت کے حوالے کریں ورنہ ان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات قائم ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ قانونی اسلحہ رکھنے والوں کو بھی اپنا اسلحہ خدمت مراکز میں رجسٹرڈ کرانا ہوگا، ورنہ قانونی کارروائی کی جائے گی۔
عظمیٰ بخاری کے مطابق لاؤڈ اسپیکر صرف اذان اور خطبات کے لیے استعمال کیا جا سکے گا، اس کے علاوہ کسی مقصد کے لیے اجازت نہیں ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ 2016 سے 2024 تک 692 مقدمات درج ہوئے، جبکہ صرف 2025 میں 108 ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں، جن میں سے 71 دہشت گردی کی دفعات کے تحت ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پنجاب کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ عوام نے آج کے احتجاج کی کال کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست امن و امان کی بحالی اور عوامی املاک کے تحفظ کی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹے گی، اور میڈیا و سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے اقدامات کی حمایت کریں۔
