لاہور: چشتیاں میں 19 سالہ مہناز بی بی کو مبینہ طور پر تشدد کے بعد گلا گھونٹ کر قتل کر دیا گیا۔ وزیرِاعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے ڈی پی او بہاول نگر سے واقعے کی مکمل اور تفصیلی رپورٹ فوری طور پر طلب کر لی ہے۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کے سسرالیوں نے موت کو طبعی قرار دینے کی کوشش کی، تاہم مہناز بی بی کی گردن پر پھندے کے نشانات اور جسم پر تشدد کے آثار ان کے دعوے کے برعکس ثابت ہوئے۔
والد کی مدعیت میں تھانہ صدر چشتیاں میں قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جس میں شوہر، سسر اور دیور کو مرکزی ملزمان نامزد کیا گیا۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تینوں نامزد ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
حنا پرویز بٹ نے کہا کہ خواتین پر تشدد اور جان لیوا حملے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے، اور ہر مجرم کو کیفرِکردار تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں عورت کے کردار پر شک کو جواز بنا کر تشدد یا قتل کرنے والوں کے لیے زیرو ٹالرنس کی پالیسی نافذ ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے حساس مقدمات میں شفاف، میرٹ پر مبنی اور بے دھڑک تفتیش یقینی بنائی جائے گی۔ متاثرہ خاندان کو مکمل قانونی مدد فراہم کی جائے گی اور انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
چیئرپرسن نے واضح کیا کہ خواتین کی جان و مال کا تحفظ ریاست اور اداروں کی اولین ذمہ داری ہے، اور اس ذمہ داری میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ "محفوظ پنجاب ہماری ترجیح ہے، ہر بیٹی کے لیے انصاف اور تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔”
