بیونس آئرس : ارجنٹائن میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ڈائناسور کا سات کروڑ سال پرانا انڈا دریافت کیا ہے جو حیرت انگیز طور پر بہترین حالت میں محفوظ ہے۔
یہ نایاب دریافت صوبہ ریو نیگرو کے علاقے میں کھدائی کے دوران ہوئی۔ سائنس میگزین کے مطابق، برنارڈو ریواڈاویا میوزیم آف نیچرل سائنسز کے ماہر گونزالو لیونیل مونوز نے بتایا کہ یہ دریافت ’’بالکل غیر متوقع‘‘ تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ڈائناسور کے فوسلز اکثر مل جاتے ہیں، مگر انڈے انتہائی کم یاب ہوتے ہیں، خاص طور پر اس حالت میں۔ یہ انڈا شترمرغ کے انڈے کے برابر سائز کا ہے اور ممکنہ طور پر بوناپارٹینیکس (Bonapartenykus) نسل کے ایک گوشت خور ڈائناسور کا ہے جو کریٹیشیس دور کے آخر میں پایا جاتا تھا۔
ماہرین کے مطابق گوشت خور ڈائناسور کے انڈے ملنا نہایت نایاب ہے کیونکہ ان کی تعداد کم تھی اور ان کے انڈے نسبتاً نازک ہوتے تھے۔ سائنسدانوں نے وضاحت کی ہے کہ فی الحال اس انڈے سے ڈی این اے نکالنے یا "جراسک پارک” طرز کے تجربات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
