اسلام آباد : پاکستان نے بھارتی میڈیا کی ان خبروں کو جھوٹا، بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد نے ہندو برادری کے افراد کو بابا گورو نانک دیو جی کی سالگرہ کی تقریبات میں شرکت سے روکا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندڑابی نے ایک بیان میں وضاحت کی کہ پاکستان ہائی کمیشن، نئی دہلی کی جانب سے بھارت کے سکھ یاتریوں کو شرکت کے لیے 2400 سے زائد ویزے جاری کیے گئے تھے، جن میں سے 1932 یاتری 4 نومبر کو اٹاری-واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوئے۔
ترجمان نے بتایا کہ تقریباً 300 ویزہ یافتہ افراد کو بھارتی حکام نے سرحد عبور کرنے سے روک دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی امیگریشن کا عمل مکمل طور پر منظم اور ہموار تھا، تاہم چند افراد کے سفری دستاویزات نامکمل ہونے کے باعث انہیں معمول کے ضوابط کے تحت واپس بھیجا گیا۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ داخلے سے متعلق کارروائی صرف انتظامی نوعیت کی تھی، اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ پاکستان ہمیشہ تمام مذاہب کے زائرین کو اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے خوش آمدید کہتا ہے۔
انہوں نے بھارتی میڈیا کی رپورٹوں کو "گمراہ کن اور شرانگیز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ "ایسے دعوے محض حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور ایک انتظامی معاملے کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش ہیں۔”
ترجمان نے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدامات بھارت کے تعصب زدہ رویے اور میڈیا کے جانبدارانہ بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ رواں ہفتے بھارت سے درجنوں سکھ یاتری پاکستان پہنچے، جو مئی میں سرحدی جھڑپوں کے بعد پہلی بڑی آمد تھی۔ ان جھڑپوں کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک ہوئے اور واہگہ-اٹاری بارڈر کو عام آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔
بابا گورو نانک دیو جی کی 556ویں سالگرہ کے موقع پر دس روزہ تقریبات کے لیے 2100 سے زائد یاتریوں کو ویزے جاری کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب، کرتارپور راہداری جو 2019 میں ویزہ فری راستے کے طور پر کھولی گئی تھی تاکہ بھارتی سکھ اپنے مقدس مندر کی زیارت کر سکیں مئی کے تنازعے کے بعد تاحال بند ہے۔
