کراچی کے علاقے گلشن اقبال بلاک ون کے ایک فلیٹ میں ماں، بیٹی اور بہو کی پراسرار ہلاکتوں کا معاملہ مزید پیچیدہ ہوتا جارہا ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں۔ تینوں خواتین کا پوسٹ مارٹم رات گئے مکمل کرلیا گیا اور لاشیں چھیپا سردخانے منتقل کردی گئیں۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ طارق کے مطابق پوسٹ مارٹم کے دوران خون اور مختلف اعضاء کے نمونے حاصل کرکے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں۔ اموات کی اصل وجہ لیب رپورٹ موصول ہونے تک ظاہر نہیں کی جارہی۔ ابتدائی معائنے میں لاشوں پر تشدد یا زخم کا کوئی نشان نہیں ملا۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ قتل کی دفعہ کے تحت سرکار کی مدعیت میں درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق گھر کے سربراہ اور بے ہوشی کی حالت میں ملنے والے بیٹے کا کردار شبہات پیدا کر رہا ہے۔
فارنزک ایکسپرٹس کے ہمراہ پولیس ٹیمیں دوبارہ فلیٹ کا معائنہ کریں گی۔ 30 سالہ یاسین کی حالت خطرے سے باہر ہے تاہم وہ تاحال بیان دینے کے قابل نہیں۔ گھر کے سربراہ اقبال کا ابتدائی بیان قلمبند کرلیا گیا ہے، جس میں متعدد تضادات پائے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق بہو مہا کی موت تقریباً 72 گھنٹے قبل واقع ہوئی تھی لیکن اس دوران کسی نے پولیس یا رشتے داروں کو اطلاع نہیں دی۔ بیٹی ثمرین کی موت سب سے آخر میں ہوئی۔
تحقیقات کے مطابق شبہ ہے کہ تینوں خواتین نے کوئی زہریلا مادہ کھایا یا پلایا گیا ہو، تاہم حتمی وجہ کیمیکل ایگزامینیشن رپورٹ سے سامنے آئے گی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گھر کے سربراہ اقبال نے واقعے کی اطلاع اپنی بہن زرینہ کو تین روز بعد دی، جس کے بعد زرینہ نے اپنے بھائی اسلم کو بتایا۔ اسلم موقع پر پہنچا اور 15 مددگار پر کال کی۔ پولیس کے پہنچنے پر دروازہ کھلوایا گیا تو تینوں خواتین کی لاشیں مختلف کمروں میں بیڈ پر پڑی ملیں اور بظاہر ایسا محسوس ہوا کہ وہ نیند میں ہی چل بسیں۔
اہل خانہ حال ہی میں رنچھوڑ لائن سے اس فلیٹ میں منتقل ہوئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق بہو مہا حاملہ تھی اور اس کا میکا اسلام آباد میں ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے کی تفتیش جاری ہے اور عمارت کے رہائشیوں و چوکیداروں کے بیانات بھی قلمبند کیے جائیں گے۔
