کراچی — عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی نے گل پلازہ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کو ایک بڑا المیہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر حکومت کو سنجیدگی سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ خود گل پلازہ کا دورہ کر کے آئے ہیں، جہاں قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوا۔
شاہد خاقان عباسی نے زور دیا کہ شہدا کی شناخت کا عمل جلد مکمل کیا جائے، متاثرہ خاندانوں کی بات سنی جائے اور ان کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی چیمبر آف کامرس کی جانب سے اس معاملے پر کام کرنا ایک مثبت قدم ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ ایسے سانحات بار بار کیوں جنم لیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہزاروں ہائی رائز عمارتیں موجود ہیں اور تقریباً سبھی ایک جیسے مسائل کا شکار ہیں۔ صوبائی حکومت کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے جبکہ وفاقی حکومت کو بھی متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتوں پر تنقید کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ شہر چلانا وفاق کا کام نہیں۔ ان کے مطابق صوبوں کو وسائل ملتے ہیں، لیکن کراچی کو ہمیشہ یہ شکایت رہی ہے کہ اس کے مسائل حل نہیں ہو رہے، جو ایک تلخ حقیقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں سڑکوں اور پانی کا نظام بدحالی کا شکار ہے، ایک وقت تھا جب گھروں میں پانی آتا تھا، آج ٹینکر مافیا کے ذریعے پانی فراہم کیا جا رہا ہے، جو دنیا کے کسی بڑے شہر میں معمول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پانی کے بحران میں مختلف مافیا ملوث ہیں، مگر صوبہ اور وفاق اس پر مؤثر انداز میں کام کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل حل کرنے کے بجائے آئینی ترامیم کے ذریعے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی بات کی جا رہی ہے، جو درست راستہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئینی ترامیم رات کی تاریکی میں نہیں کی جاتیں بلکہ انہیں عوام کے سامنے لانا ضروری ہوتا ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ جب آئینی ترمیم میں تمام فریقوں اور عوام کی رائے شامل نہ ہو تو مسائل حل ہونے کے بجائے مزید بگڑ جاتے ہیں۔ گل پلازہ کے معاملے پر بھی عوام اور متاثرین کی آواز سنی جانی چاہیے۔ ایک مجوزہ ترمیم پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کے گوشواروں کو عوام کی دسترس سے دور رکھنے کی کوئی منطق نہیں، اور آج سیکیورٹی کے نام پر معلومات چھپائی جا رہی ہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر عوام سے اتنا خوف ہے تو سیاست چھوڑ دینی چاہیے، کیونکہ جمہوریت کی بنیاد شفافیت اور عوام کے سامنے جوابدہی ہے۔
