ایران کے ساتھ جنگ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سب سے حساس محاذ خارجہ پالیسی نہیں بلکہ امریکی معیشت ہے۔ حالیہ دنوں میں مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ نے دکھایا کہ خلیج کی صورتِ حال، تیل کی قیمتیں، سرمایہ کاروں کا اعتماد اور عام صارفین کی مہنگائی سے متعلق پریشانیاں ایک دوسرے سے کتنی گہرائی سے جڑی ہوئی ہیں۔ جب آبنائے ہرمز کے بارے میں خدشات بڑھے تو تیل مہنگا ہوا اور مہنگائی کے خطرات بڑھ گئے، جبکہ کشیدگی میں کمی کے اشاروں پر اسٹاک مارکیٹ اوپر گئی اور تیل کی قیمتیں نیچے آئیں۔ اس پوری صورتحال کا مرکز توانائی کی منڈی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل راستوں میں شمار ہوتی ہے، اس لیے وہاں کسی بھی رکاوٹ یا خطرے کا اثر فوری طور پر عالمی خام تیل، شپنگ لاگت اور پھر امریکی پٹرول قیمتوں پر پڑتا ہے۔ سیاسی طور پر یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ ٹرمپ کی معاشی ساکھ بڑی حد تک مہنگائی کو قابو میں رکھنے اور عوام کو نئے اخراجاتی جھٹکے سے بچانے پر منحصر ہے۔
معاشی ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایران جنگ لمبی کھنچی تو اس سے مہنگائی میں اضافہ، فیڈرل ریزرو کے لیے پالیسی مشکلات، اور گھریلو اخراجات میں کمزوری پیدا ہو سکتی ہے۔ مورگن اسٹینلے نے کہا کہ طویل تنازع زیادہ تیل قیمتوں، زیادہ مہنگائی اور مارکیٹ میں بے یقینی کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ ڈلاس فیڈ کے محققین نے بھی ماڈلنگ میں دکھایا کہ ایران جنگ سے پیدا ہونے والا تیل کا جھٹکا امریکی مہنگائی اور عوامی توقعات دونوں کو اوپر لے جا سکتا ہے۔ اسی لیے خطے سے آنے والا ہر اشارہ مالیاتی منڈیوں کو فوراً متاثر کر رہا ہے۔
8 اپریل کو عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی اور اسٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی۔ 17 اپریل کو جب دوبارہ یہ اشارے ملے کہ آبنائے ہرمز کھل رہی ہے تو امریکی انڈیکس مزید اوپر گئے اور تیل مزید نیچے آیا۔ اس سے واضح ہوا کہ معاشی سکون کا انحصار اب بڑی حد تک اس بات پر ہے کہ توانائی کی رسد دوبارہ متاثر نہ ہو۔ سیاسی لحاظ سے یہی ٹرمپ کا اصل pressure point بنتا ہے۔ وہ کچھ حد تک جنگی یا سفارتی تناؤ برداشت کر سکتے ہیں، لیکن اگر پٹرول مہنگا ہو، مہنگائی بڑھے، یا مالیاتی منڈیوں میں دباؤ آئے تو اس کا سیدھا اثر ووٹرز پر پڑتا ہے۔ اور جب روزمرہ زندگی کے اخراجات پہلے ہی ایک اہم انتخابی مسئلہ ہوں، تو ایسی معاشی ضرب زیادہ سیاسی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ یعنی کہ ایران جنگ نے صرف ٹرمپ کی جنگی یا سفارتی حکمتِ عملی کو نہیں آزمایا، بلکہ یہ بھی دکھا دیا کہ ان کی اصل کمزوری معاشی استحکام ہے۔ تیل، مہنگائی اور مارکیٹ جتنی تیزی سے ردعمل دیتی ہیں، واشنگٹن میں سیاسی دباؤ بھی اتنی ہی تیزی سے بڑھتا ہے۔
