اسلام آباد میں HIV کے کیسز میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں گزشتہ 15 ماہ کے دوران 600 سے زائد نئے انفیکشن سامنے آئے ہیں، جس سے پاکستان میں پھیلتی ہوئی HIV وبا پر تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق سرکاری وفاقی اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ 2025 کے آخری چھ ماہ میں وفاقی علاقوں میں تقریباً 300 نئے کیسز سامنے آئے، جبکہ اس سے پہلے کے مہینوں میں بھی قریب 300 کیسز رپورٹ ہو چکے تھے، یوں 15 ماہ کا مجموعہ 600 سے اوپر چلا گیا۔ ان میں سے 80 فیصد سے زیادہ کیسز اسلام آباد سے منسلک بتائے گئے۔
یہ اضافہ ایک بڑے قومی رجحان کا حصہ ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور یو این ایڈز نے دسمبر 2025 میں خبردار کیا تھا کہ پاکستان WHO کے مشرقی بحیرہ روم خطے میں HIV کی تیزی سے بڑھتی ہوئی وباؤں میں شامل ہو چکا ہے، جہاں نئے انفیکشنز میں 15 سال میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے، یعنی 2010 میں 16,000 سے بڑھ کر 2024 میں 48,000 تک پہنچ گئے۔ اداروں نے یہ بھی کہا کہ بہت بڑی تعداد اب بھی اپنی بیماری سے لاعلم ہے، جس سے خاموش پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اسلام آباد اور دیگر وفاقی علاقوں میں HIV کا مجموعی بوجھ 2025 کے اختتام تک تقریباً 4,756 سے 4,800 رجسٹرڈ کیسز تک پہنچ گیا تھا۔ متعلقہ رپورٹس کے مطابق اوسطاً ہر ماہ تقریباً 50 نئے کیسز سامنے آ رہے تھے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ مسئلہ اب محدود نوعیت کا نہیں رہا۔
ماہرین کے مطابق اس اضافے کی کئی وجوہات ہیں، جن میں کم آگاہی، ٹیسٹنگ میں تاخیر، علاج نہ کروانے والے مریض، سماجی بدنامی، اور انفیکشن کنٹرول کے کمزور نظام شامل ہیں۔ پنجاب میں حالیہ HIV آؤٹ بریک کی رپورٹنگ نے سرنجوں کے دوبارہ استعمال جیسے غیر محفوظ طبی طریقوں پر بھی نئی تشویش پیدا کی، جو وائرس کے پھیلاؤ کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
نئے اعداد و شمار کے بعد صحت حکام پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ ٹیسٹنگ، جلد تشخیص، علاج تک رسائی اور آگاہی مہمات کو تیز کریں، خاص طور پر اسلام آباد جیسے شہری علاقوں میں جہاں کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو دارالحکومت میں یہ رجحان ایک بڑے قومی بحران کا حصہ بن سکتا ہے۔
