پاکستان نے 20 سے زائد مسلم اکثریتی ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم کے ساتھ مل کر اسرائیل کے سومالی لینڈ سے متعلق حالیہ سفارتی اقدام کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ قدم صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کے خلاف ہے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ دستخط کنندگان نے دسمبر 2025 میں اسرائیل کی جانب سے سومالی لینڈ کو تسلیم کرنے اور 6 جنوری 2026 کو ایک اسرائیلی عہدیدار کے ہرگیسا دورے، دونوں کو مسترد کیا ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک علامتی دورے تک محدود نہیں۔ اسرائیل نے 26 دسمبر 2025 کو سومالی لینڈ کو تسلیم کر کے ایک بڑا قدم اٹھایا تھا، اور یوں وہ ایسا کرنے والا پہلا اقوامِ متحدہ کا رکن ملک بن گیا۔ بعد ازاں مکمل سفارتی تعلقات، سفارت خانے قائم کرنے اور سفیروں کی تقرری کے اشاروں نے اس معاملے کو مزید حساس بنا دیا۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ میں شائع مشترکہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ معاملہ صرف “12 ممالک” تک محدود نہیں تھا۔ بیان میں الجزائر، بنگلہ دیش، کوموروس، جبوتی، مصر، گیمبیا، انڈونیشیا، ایران، اردن، کویت، لیبیا، مالدیپ، نائیجیریا، عمان، پاکستان، فلسطین، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، سوڈان، ترکیہ اور یمن کے نام شامل ہیں، جبکہ او آئی سی بھی اس میں شریک تھی۔ یعنی 22 ممالک اور ایک تنظیم نے اس مؤقف کی تائید کی۔
مشترکہ بیان میں اسرائیلی عہدیدار کے 6 جنوری کے دورے کو “غیر قانونی” قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ صومالیہ کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس معاملے پر توجہ دے۔
صومالیہ کے لیے یہ مسئلہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ سومالی لینڈ نے 1991 میں علیحدگی کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد سے وہاں اپنی حکومت، ادارے اور سکیورٹی ڈھانچہ موجود ہے، لیکن بین الاقوامی سطح پر اسے اب بھی صومالیہ ہی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل کے فیصلے نے اسی دیرینہ مؤقف کو چیلنج کیا، جس کے بعد فوری سفارتی ردعمل سامنے آیا۔
