سوئٹزرلینڈ کے معروف فٹبال کلب ایف سی باسل نے ریپر یی، جو پہلے کینئے ویسٹ کے نام سے جانے جاتے تھے، کے مجوزہ کنسرٹ کو اسٹ. جیکب پارک میں منعقد کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد یہ معاملہ صرف ایک مقامی موسیقی تقریب تک محدود نہیں رہا بلکہ یورپ میں یی کی متنازع عوامی موجودگی کے خلاف بڑھتے ہوئے ردِعمل کا حصہ بن گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ شو 26 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ کے بڑے اسٹیڈیمز میں شمار ہونے والے اسٹ. جیکب پارک میں ہونا تھا، مگر ایف سی باسل نے واضح کر دیا کہ وہ اس مقام پر ایسی تقریب کی اجازت نہیں دے سکتا جو اس کے ادارہ جاتی مؤقف اور اقدار سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔ یوں کلب کے فیصلے نے کنسرٹ کے انعقاد کی راہ عملاً بند کر دی۔
اس فیصلے کا پس منظر بھی خاصا اہم ہے۔ یی کو گزشتہ برسوں میں اپنے سام دشمن بیانات کے باعث شدید تنقید کا سامنا رہا ہے، اور یہی تنازع اب بھی ان کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ باسل میں کنسرٹ روکنے کا اقدام ایک بڑے یورپی رجحان کا حصہ دکھائی دیتا ہے، جہاں مختلف مقامات اور حکام ان کی پرفارمنسز کے حوالے سے زیادہ محتاط اور سخت رویہ اختیار کرتے نظر آ رہے ہیں۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق مارسے میں ان کا ایک کنسرٹ اس وقت مؤخر کر دیا گیا جب فرانسیسی حکام نے اسے رکوانے کی کوشش کا عندیہ دیا، جبکہ پولینڈ میں بھی ایک شو منسوخ کیے جانے کی خبریں سامنے آئیں۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ یورپ میں یی کے لیے لائیو پرفارمنسز کا سلسلہ اب صرف موسیقی کا معاملہ نہیں رہا بلکہ اخلاقی، سیاسی اور سماجی بحث کا موضوع بھی بن چکا ہے۔
ایف سی باسل کے لیے یہ فیصلہ علامتی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ اسٹ. جیکب پارک صرف ایک کنسرٹ وینیو نہیں بلکہ کلب کا ہوم گراؤنڈ اور سوئٹزرلینڈ کا ایک نمایاں عوامی مقام ہے۔ ایسے میں کسی متنازع فنکار کو وہاں جگہ دینا محض کاروباری فیصلہ نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اسے کلب کی شناخت اور اصولوں سے بھی جوڑا جاتا ہے۔
