شمالی کوریا نے اتوار کی صبح اپنے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی جانب کئی مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغ دیے۔ یہ ایک اور ایسا قدم تھا جس نے ایک بار پھر شمال مشرقی ایشیا میں بے چینی بڑھا دی، اور یہ پیغام بھی دیا کہ پیانگ یانگ ایسے وقت میں اپنی طاقت دکھانے سے نہیں چوکتا جب دنیا کی نظریں کسی اور بحران پر جمی ہوں۔
جنوبی کوریا، جاپان اور امریکا کے حکام کے مطابق یہ میزائل سنپو کے علاقے سے داغے گئے، جو شمالی کوریا کے آبدوز اور میزائل پروگرام کے حوالے سے پہلے ہی حساس سمجھا جاتا ہے۔ حکام نے کہا کہ میزائل تقریباً 140 کلومیٹر تک پرواز کرنے کے بعد سمندر میں گرے۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بتایا کہ یہ لانچنگ 19 اپریل 2026 کو مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 6 بج کر 10 منٹ پر ہوئی۔ جاپان نے فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لینا شروع کیا، جبکہ جنوبی کوریا، امریکا اور جاپان نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ مختصر لفظوں میں، یہ وہی پیغام تھا جو پیانگ یانگ پہلے بھی دیتا رہا ہے: ہم موجود ہیں، اور ہمیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس واقعے کی ٹائمنگ خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہ میزائل تجربہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) چند روز پہلے خبردار کر چکی تھی کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام میں نہایت سنجیدہ نوعیت کی پیش رفت دیکھی جا رہی ہے۔ ادارے نے یونگ بیون سمیت اہم جوہری تنصیبات پر بڑھتی سرگرمیوں اور ایک نئے افزودگی مرکز کی تکمیل کی طرف اشارہ کیا تھا۔ اس تناظر میں اتوار کا میزائل تجربہ محض ایک فوجی مظاہرہ نہیں لگتا بلکہ ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔
یہ لانچ ایسے وقت میں بھی ہوا جب عالمی توجہ بڑی حد تک ایران جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر مرکوز ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شمالی کوریا ایسے ہی لمحات سے فائدہ اٹھاتا ہے، جب بڑی طاقتوں کی توجہ تقسیم ہو چکی ہو۔ تاہم یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ موجودہ عوامی شواہد یہ ثابت نہیں کرتے کہ اتوار کا میزائل تجربہ براہِ راست ایران میں جاری جنگ کے باعث کیا گیا۔ جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس نے اس ماہ کے آغاز میں یہ بھی کہا تھا کہ اسے ایسی کوئی واضح علامت نہیں ملی کہ شمالی کوریا نے حالیہ کشیدگی کے بعد ایران کو براہِ راست فوجی مدد فراہم کی ہو۔
یہی نکتہ اکثر سرخیوں میں دھندلا جاتا ہے۔ یہ کہنا درست ہے کہ میزائل تجربہ ایران جنگ کے دوران ہوا۔ لیکن یہ کہنا کہ وہ ایران جنگ کی وجہ سے ہوا، ابھی قبل از وقت ہوگا۔ زیادہ محتاط اور درست بات یہ ہے کہ شمالی کوریا بارہا ایسے مواقع پر ہتھیاروں کے تجربات کرتا رہا ہے جب عالمی سفارتی اور عسکری توجہ کسی اور طرف لگی ہوتی ہے۔
سنپو کا نام اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ علاقہ شمالی کوریا کی بحری اور آبدوز سرگرمیوں سے جڑا ہوا ہے۔ برسوں سے ماہرین اس علاقے پر نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہاں ہونے والی سرگرمیاں شمالی کوریا کی سمندر سے میزائل داغنے کی صلاحیت سے متعلق ہو سکتی ہیں۔ اگر بعد میں یہ ثابت ہوا کہ اتوار کے میزائل کسی آبدوز پروگرام سے منسلک تھے، تو یہ گزشتہ تقریباً چار برس میں اس نوعیت کی پہلی پیش رفت ہو سکتی ہے، اگرچہ ابتدائی سرکاری بیانات میں اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔
یہ تازہ لانچنگ کسی خلا میں نہیں ہوئی۔ اپریل کے آغاز سے ہی شمالی کوریا سرگرم دکھائی دے رہا ہے۔ اس دوران پہلے بھی میزائل تجربات کیے گئے اور سرکاری میڈیا نے نئے ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل وارہیڈز سے متعلق دعوے کیے۔ علاقائی ماہرین کے مطابق کم جونگ اُن کی حکومت ایک طرف اپنے دفاعی اور حملہ آور نظام کو بہتر بنا رہی ہے، اور دوسری طرف سفارتی تعطل کے بعد اپنی سودے بازی کی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتی ہے۔
اس معاملے میں سیاسی اشارے بھی موجود ہیں۔ جنوبی کوریا کے صدر لی جائے میونگ کی بھارت اور ویتنام روانگی سے پہلے یہ لانچنگ ہونا اس بات کی یاد دہانی بھی تھی کہ پیانگ یانگ اکثر اپنے فوجی اقدامات ایسے وقت پر کرتا ہے جب اسے زیادہ سے زیادہ سیاسی توجہ ملنے کا امکان ہو۔ ماضی میں بھی شمالی کوریا اتحادی فوجی مشقوں، بڑے سفارتی اجلاسوں یا اہم سرکاری دوروں کے آس پاس اسی نوعیت کے مظاہرے کرتا رہا ہے۔
جاپان اور جنوبی کوریا کے لیے اصل تشویش صرف اتوار کے میزائل نہیں، بلکہ وہ تسلسل ہے جو ان کے پیچھے دکھائی دے رہا ہے۔ مختصر فاصلے کے میزائل بھی خطے میں دفاعی تیاری، میزائل شکن نظام اور ممکنہ اچانک حملوں سے متعلق خدشات کو بڑھا دیتے ہیں۔ جب ان تجربات کو IAEA کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق وارننگ کے ساتھ جوڑا جائے تو تصویر کہیں زیادہ سنجیدہ ہو جاتی ہے۔ پیانگ یانگ بظاہر نہ صرف اپنے میزائل نظام بلکہ ان کے پیچھے موجود جوہری صلاحیت کو بھی مسلسل آگے بڑھا رہا ہے۔
یوں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اتوار کا تجربہ محض طاقت کا ایک اور مظاہرہ تھا، مگر صرف اتنا ہی نہیں۔ یہ ایک حساب شدہ پیغام بھی تھا: دنیا کہیں اور مصروف ہو سکتی ہے، مگر شمالی کوریا چاہتا ہے کہ اس کی موجودگی، اس کی رفتار، اور اس کے عزائم کسی صورت پس منظر میں نہ جائیں۔
