MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
World

ایران جنگ کے دوران توجہ بٹی رہی، شمالی کوریا نے پھر بیلسٹک میزائل داغ دیے

Last updated: اپریل 19, 2026 1:23 شام
Amna Iqbal
Share
SHARE

شمالی کوریا نے اتوار کی صبح اپنے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی جانب کئی مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغ دیے۔ یہ ایک اور ایسا قدم تھا جس نے ایک بار پھر شمال مشرقی ایشیا میں بے چینی بڑھا دی، اور یہ پیغام بھی دیا کہ پیانگ یانگ ایسے وقت میں اپنی طاقت دکھانے سے نہیں چوکتا جب دنیا کی نظریں کسی اور بحران پر جمی ہوں۔

جنوبی کوریا، جاپان اور امریکا کے حکام کے مطابق یہ میزائل سنپو کے علاقے سے داغے گئے، جو شمالی کوریا کے آبدوز اور میزائل پروگرام کے حوالے سے پہلے ہی حساس سمجھا جاتا ہے۔ حکام نے کہا کہ میزائل تقریباً 140 کلومیٹر تک پرواز کرنے کے بعد سمندر میں گرے۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بتایا کہ یہ لانچنگ 19 اپریل 2026 کو مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 6 بج کر 10 منٹ پر ہوئی۔ جاپان نے فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لینا شروع کیا، جبکہ جنوبی کوریا، امریکا اور جاپان نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ مختصر لفظوں میں، یہ وہی پیغام تھا جو پیانگ یانگ پہلے بھی دیتا رہا ہے: ہم موجود ہیں، اور ہمیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اس واقعے کی ٹائمنگ خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہ میزائل تجربہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) چند روز پہلے خبردار کر چکی تھی کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام میں نہایت سنجیدہ نوعیت کی پیش رفت دیکھی جا رہی ہے۔ ادارے نے یونگ بیون سمیت اہم جوہری تنصیبات پر بڑھتی سرگرمیوں اور ایک نئے افزودگی مرکز کی تکمیل کی طرف اشارہ کیا تھا۔ اس تناظر میں اتوار کا میزائل تجربہ محض ایک فوجی مظاہرہ نہیں لگتا بلکہ ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔

یہ لانچ ایسے وقت میں بھی ہوا جب عالمی توجہ بڑی حد تک ایران جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر مرکوز ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شمالی کوریا ایسے ہی لمحات سے فائدہ اٹھاتا ہے، جب بڑی طاقتوں کی توجہ تقسیم ہو چکی ہو۔ تاہم یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ موجودہ عوامی شواہد یہ ثابت نہیں کرتے کہ اتوار کا میزائل تجربہ براہِ راست ایران میں جاری جنگ کے باعث کیا گیا۔ جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس نے اس ماہ کے آغاز میں یہ بھی کہا تھا کہ اسے ایسی کوئی واضح علامت نہیں ملی کہ شمالی کوریا نے حالیہ کشیدگی کے بعد ایران کو براہِ راست فوجی مدد فراہم کی ہو۔

یہی نکتہ اکثر سرخیوں میں دھندلا جاتا ہے۔ یہ کہنا درست ہے کہ میزائل تجربہ ایران جنگ کے دوران ہوا۔ لیکن یہ کہنا کہ وہ ایران جنگ کی وجہ سے ہوا، ابھی قبل از وقت ہوگا۔ زیادہ محتاط اور درست بات یہ ہے کہ شمالی کوریا بارہا ایسے مواقع پر ہتھیاروں کے تجربات کرتا رہا ہے جب عالمی سفارتی اور عسکری توجہ کسی اور طرف لگی ہوتی ہے۔

سنپو کا نام اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ علاقہ شمالی کوریا کی بحری اور آبدوز سرگرمیوں سے جڑا ہوا ہے۔ برسوں سے ماہرین اس علاقے پر نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہاں ہونے والی سرگرمیاں شمالی کوریا کی سمندر سے میزائل داغنے کی صلاحیت سے متعلق ہو سکتی ہیں۔ اگر بعد میں یہ ثابت ہوا کہ اتوار کے میزائل کسی آبدوز پروگرام سے منسلک تھے، تو یہ گزشتہ تقریباً چار برس میں اس نوعیت کی پہلی پیش رفت ہو سکتی ہے، اگرچہ ابتدائی سرکاری بیانات میں اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

یہ تازہ لانچنگ کسی خلا میں نہیں ہوئی۔ اپریل کے آغاز سے ہی شمالی کوریا سرگرم دکھائی دے رہا ہے۔ اس دوران پہلے بھی میزائل تجربات کیے گئے اور سرکاری میڈیا نے نئے ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل وارہیڈز سے متعلق دعوے کیے۔ علاقائی ماہرین کے مطابق کم جونگ اُن کی حکومت ایک طرف اپنے دفاعی اور حملہ آور نظام کو بہتر بنا رہی ہے، اور دوسری طرف سفارتی تعطل کے بعد اپنی سودے بازی کی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتی ہے۔

اس معاملے میں سیاسی اشارے بھی موجود ہیں۔ جنوبی کوریا کے صدر لی جائے میونگ کی بھارت اور ویتنام روانگی سے پہلے یہ لانچنگ ہونا اس بات کی یاد دہانی بھی تھی کہ پیانگ یانگ اکثر اپنے فوجی اقدامات ایسے وقت پر کرتا ہے جب اسے زیادہ سے زیادہ سیاسی توجہ ملنے کا امکان ہو۔ ماضی میں بھی شمالی کوریا اتحادی فوجی مشقوں، بڑے سفارتی اجلاسوں یا اہم سرکاری دوروں کے آس پاس اسی نوعیت کے مظاہرے کرتا رہا ہے۔

جاپان اور جنوبی کوریا کے لیے اصل تشویش صرف اتوار کے میزائل نہیں، بلکہ وہ تسلسل ہے جو ان کے پیچھے دکھائی دے رہا ہے۔ مختصر فاصلے کے میزائل بھی خطے میں دفاعی تیاری، میزائل شکن نظام اور ممکنہ اچانک حملوں سے متعلق خدشات کو بڑھا دیتے ہیں۔ جب ان تجربات کو IAEA کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق وارننگ کے ساتھ جوڑا جائے تو تصویر کہیں زیادہ سنجیدہ ہو جاتی ہے۔ پیانگ یانگ بظاہر نہ صرف اپنے میزائل نظام بلکہ ان کے پیچھے موجود جوہری صلاحیت کو بھی مسلسل آگے بڑھا رہا ہے۔

یوں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اتوار کا تجربہ محض طاقت کا ایک اور مظاہرہ تھا، مگر صرف اتنا ہی نہیں۔ یہ ایک حساب شدہ پیغام بھی تھا: دنیا کہیں اور مصروف ہو سکتی ہے، مگر شمالی کوریا چاہتا ہے کہ اس کی موجودگی، اس کی رفتار، اور اس کے عزائم کسی صورت پس منظر میں نہ جائیں۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article ایف سی باسل نے یی کے مجوزہ کنسرٹ کی میزبانی سے انکار کر دیا ایف سی باسل نے یی کے مجوزہ کنسرٹ کی میزبانی سے انکار کر دیا
Next Article عیدالاضحیٰ 2026 سے قبل کانگو وائرس سے متعلق ایڈوائزری جاری، احتیاطی تدابیر پر زور
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
صومالیہ میں قزاقوں کی فائرنگ سے جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں وطن لانے میں مشکلات
صومالیہ میں قزاقوں کی فائرنگ سے جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں وطن لانے میں مشکلات
Maritime تازہ ترین
اکتوبر 1, 2026
امریکی قونصل جنرل کا کراچی پورٹ کا دورہ، جدیدکاری اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو
امریکی قونصل جنرل کا کراچی پورٹ کا دورہ، جدیدکاری اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اکتوبر 1, 2026
گورنر سندھ سے آسٹریا کے اعزازی قونصل جنرل کی ملاقات، تجارتی و اقتصادی تعاون پر گفتگو
گورنر سندھ سے آسٹریا کے اعزازی قونصل جنرل کی ملاقات، تجارتی و اقتصادی تعاون پر گفتگو
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اکتوبر 1, 2026
صومالیہ میں قید پاکستانیوں کا معاملہ، گورنر سندھ نہال ہاشمی کا اہم بیان
صومالیہ میں قید پاکستانیوں کا معاملہ، گورنر سندھ نہال ہاشمی کا اہم بیان
تازہ ترین سیاست
اکتوبر 1, 2026
پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کامیاب، 15 اکتوبر تک مہلت
پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کامیاب، 15 اکتوبر تک مہلت
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اکتوبر 1, 2026
پی ایم اے کا ملک بھر کے نجی میڈیکل سینٹرز میں ہڑتال کا اعلان، حکومت کو 11 اکتوبر کی ڈیڈ لائن
پی ایم اے کا ملک بھر کے نجی میڈیکل سینٹرز میں ہڑتال کا اعلان، حکومت کو 11 اکتوبر کی ڈیڈ لائن
Health تازہ ترین
اکتوبر 1, 2026

You Might Also Like

World

پاکستان کا برطانیہ میں حالیہ واقعات پر شدید احتجاج، برطانوی ہائی کمیشن کو ڈی مارش جاری

By Hafeez Alam Ghazi
اوربان کا دور اچانک ختم، ہنگری کے اگلے وزیرِاعظم پیٹر میگیار تیزی سے اقتدار سنبھالنے کے خواہاں
Worldتازہ ترینسیاست

اوربان کا دور اچانک ختم، ہنگری کے اگلے وزیرِاعظم پیٹر میگیار تیزی سے اقتدار سنبھالنے کے خواہاں

By Ayesha Masood
ایران اور امریکا میں کئی نکات پر پیش رفت، مگر معاہدہ فوری متوقع نہیں
World

ایران اور امریکا میں کئی نکات پر پیش رفت، مگر معاہدہ فوری متوقع نہیں

By Syeda Musfira
World

امریکا۔ایران مذاکرات پر غیر یقینی کی فضا، جنگ بندی اختتام کے قریب

By Amna Iqbal
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?