اسلام آباد: عیدالاضحیٰ 2026 سے پہلے پاکستان میں کرائمین کانگو ہیمرجک فیور (CCHF)، جسے عام طور پر کانگو وائرس کہا جاتا ہے، کے خطرے کے پیشِ نظر قومی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ قربانی کے دنوں سے پہلے اور دورانِ عید مویشیوں کی نقل و حرکت، بیوپاری منڈیوں میں رش، اور جانوروں کے ساتھ قریبی رابطے کی وجہ سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق NIH نے ملک گیر سطح پر احتیاطی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔
ادارے کی تشویش کی ایک بڑی وجہ گزشتہ برس کے اعداد و شمار ہیں۔ 2026 کی رپورٹنگ کے مطابق پاکستان میں 2025 کے دوران CCHF کے 82 تصدیق شدہ کیسز اور 20 اموات رپورٹ ہوئیں، جس کے بعد شرحِ اموات 24 فیصد سے اوپر چلی گئی۔ اس سے پہلے NIH کی 2025 کی سرکاری ایڈوائزری میں بتایا گیا تھا کہ 2024 میں 61 تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے تھے۔ یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ بیماری اب بھی ایک سنجیدہ اور بار بار لوٹ آنے والا خطرہ ہے، خاص طور پر عیدالاضحیٰ کے قریب۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق یہ وائرس زیادہ تر چیچڑ کے کاٹنے سے یا متاثرہ جانور کے خون اور بافتوں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، خاص طور پر ذبح کے دوران یا فوراً بعد۔ یہی وجہ ہے کہ قربانی کے موسم میں احتیاط کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، کیونکہ بہت سے لوگ ایسے بھی جانور سنبھالتے ہیں جو عام دنوں میں مویشیوں کے ساتھ کام نہیں کرتے۔ WHO یہ بھی واضح کرتا ہے کہ بعض صورتوں میں مریض کے خون یا جسمانی رطوبتوں سے انسان سے انسان میں بھی منتقلی ہو سکتی ہے، جس کے باعث اسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول مزید اہم ہو جاتا ہے۔
سرکاری ہدایات میں عوام اور انتظامیہ دونوں کے لیے واضح نکات شامل ہیں: جانوروں کو ممکن ہو تو چیچڑ مار ادویات یا اسپرے کے ذریعے صاف رکھا جائے، مویشی سنبھالتے وقت دستانے اور مکمل لباس استعمال کیا جائے، ننگے ہاتھ سے چیچڑ نہ ہٹائے جائیں، اور ذبح کے دوران خون یا فضلے سے براہِ راست رابطے سے بچا جائے۔ حکام نے صحت کے اداروں، ضلعی انتظامیہ اور مویشی منڈیوں کے منتظمین کو بھی کہا ہے کہ وہ نگرانی اور حفاظتی انتظامات سخت کریں۔
ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف دیہی علاقوں تک محدود نہیں رہا۔ عید سے پہلے جب ملک بھر سے جانور بڑے شہروں میں لائے جاتے ہیں تو شہری آبادی بھی اس خطرے کی زد میں آ جاتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جب عارضی منڈیاں، گنجان رہائشی علاقے، اور گھروں یا گلیوں میں ہونے والی قربانی بیماری کے پھیلاؤ کا امکان بڑھا دیتے ہیں۔ اسی لیے یہ ایڈوائزری محض رسمی انتباہ نہیں بلکہ ایک عملی صحتِ عامہ پیغام ہے۔
علامات کے حوالے سے بھی احتیاط ضروری ہے۔ WHO کے مطابق کانگو وائرس میں تیز بخار، جسم درد، کمزوری، سر درد، الٹی، اور بعض شدید صورتوں میں خون بہنا شامل ہو سکتا ہے۔ اگر کسی شخص کو جانور، خون، یا چیچڑ کے ممکنہ رابطے کے بعد ایسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی معائنہ کرانا چاہیے۔ اس بیماری کے لیے انسانوں میں وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی کوئی عمومی ویکسین موجود نہیں، اس لیے بچاؤ، جلد تشخیص، اور بروقت علاج ہی سب سے مؤثر راستہ ہے۔
عیدالاضحیٰ کی تیاریوں کے درمیان حکام کا پیغام صاف ہے: قربانی ضرور کیجیے، مگر احتیاط کے بغیر نہیں۔ جانور خریدتے وقت منظور شدہ یا نگرانی والے بازاروں کو ترجیح دی جائے، بچوں کو ذبح کے مقام سے دور رکھا جائے، اور صفائی ستھرائی کو معمولی بات نہ سمجھا جائے۔ خوشی کے اس موقع پر ایک چھوٹی سی غفلت سنگین طبی مسئلہ بن سکتی ہے۔
