MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
World

اسرائیلی فوج زندگی بچانے والوں کو کیسے نشانہ بناتی ہے

Last updated: اپریل 19, 2026 3:01 شام
Syed Jarri Abbas
Share
SHARE

یہ سرخی سخت محسوس ہو سکتی ہے، مگر حالیہ رپورٹنگ اسے محض جذباتی جملہ نہیں رہنے دیتی۔ غزہ اور لبنان دونوں میں ایسی متعدد مثالیں سامنے آئی ہیں جن میں میڈکس، پیرا میڈکس، ایمبولینس عملہ اور ریسکیو ورکرز اس وقت اسرائیلی حملوں کی زد میں آئے جب وہ زخمیوں کو بچانے یا منتقل کرنے پہنچے تھے۔ خاص طور پر لبنان کے شہر میفدون میں اپریل 2026 کے حملے نے اس بحث کو اور تیز کر دیا، جہاں مسلسل تین حملوں میں چار امدادی کارکن مارے گئے اور چھ زخمی ہوئے۔

اس پوری بحث کی سب سے نمایاں مثال 23 مارچ 2025 کا وہ واقعہ ہے جس میں رفح کے علاقے میں 15 فلسطینی امدادی کارکن مارے گئے۔ الجزیرہ کی فروری 2026 کی رپورٹ کے مطابق ایک تحقیق میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج نے واضح نشان والی امدادی گاڑیوں اور ایمبولینسوں پر 900 سے زیادہ گولیاں چلائیں، اور بعض زندہ بچ جانے والوں کو قریب سے مارے جانے کا بھی الزام سامنے آیا۔ اس واقعے نے اس لیے شدید ردِعمل پیدا کیا کیونکہ مرنے والوں میں فلسطین ریڈ کریسنٹ، سول ڈیفنس اور اقوام متحدہ سے وابستہ اہلکار شامل تھے، یعنی وہ لوگ جو لڑنے نہیں بلکہ جان بچانے گئے تھے۔

لبنان میں بھی حالیہ حملوں نے یہی سوال دوبارہ کھڑا کیا ہے کہ آیا امدادی کارکن خود ہدف بن رہے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق 15 اپریل 2026 کو جنوبی لبنان کے میفدون میں ایک ٹیم زخمیوں کی مدد کے لیے پہنچی، پھر دوسری ٹیم آئی، اور اس کے بعد مزید حملے ہوئے۔ اسی لیے کچھ مبصرین نے اسے “ڈبل ٹیپ” یا “کواڈروپل ٹیپ” جیسا طرزِ حملہ قرار دیا، یعنی پہلا حملہ، پھر مدد کے لیے آنے والوں پر بعد کے حملے۔ گارڈین نے بھی اسی واقعے کو اسی تناظر میں رپورٹ کیا۔

اعداد و شمار اس مسئلے کی سنگینی کو اور واضح کرتے ہیں۔ اے پی کی رپورٹ کے مطابق لبنان میں 2 مارچ 2026 سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے کم از کم 91 طبی اور امدادی کارکن مارے جا چکے تھے، جبکہ گارڈین نے زخمیوں کی تعداد 214 بتائی۔ یہ صرف انفرادی واقعات نہیں بلکہ ایک ایسے ماحول کی تصویر ہے جس میں ہسپتال، ایمبولینسیں اور طبی عملہ جنگی خطرے کے دائرے سے باہر نہیں رہے۔

اسرائیل عام طور پر یہ مؤقف اختیار کرتا ہے کہ حزب اللہ یا دیگر مسلح گروہ بعض اوقات ایمبولینسوں یا طبی ڈھانچے کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مگر حالیہ لبنان والے معاملے میں اے پی نے واضح لکھا کہ اسرائیلی فوج نے ان دعوؤں کے حق میں عوامی طور پر ثبوت پیش نہیں کیے، اور صرف یہ کہا کہ وہ واقعے کو “دیکھ رہی ہے”۔ یہی فرق — یعنی الزام ایک طرف اور عوامی ثبوت کی کمی دوسری طرف — اس معاملے کو قانونی اور اخلاقی سطح پر مزید متنازع بنا دیتا ہے۔

اسی لیے یہ خبر محض اس بارے میں نہیں کہ کتنے لوگ مارے گئے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب وہ لوگ بھی محفوظ نہ رہیں جو زخمیوں کو اٹھانے، مرہم رکھنے، اور ملبے سے نکالنے آتے ہیں، تو پھر جنگی علاقے میں انسانیت کا آخری سہارا کیا رہ جاتا ہے۔ حالیہ کیسز ایک ہی سمت اشارہ کرتے ہیں: زندگی بچانے کا عمل خود زندگی کے لیے مہلک بنتا جا رہا ہے۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article قومی مہم میں 4 کروڑ 43 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے
Next Article جھلم میں مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا حملے میں محفوظ رہے جھلم میں مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا حملے میں محفوظ رہے
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
صومالیہ میں قزاقوں کی فائرنگ سے جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں وطن لانے میں مشکلات
صومالیہ میں قزاقوں کی فائرنگ سے جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں وطن لانے میں مشکلات
Maritime تازہ ترین
اکتوبر 1, 2026
امریکی قونصل جنرل کا کراچی پورٹ کا دورہ، جدیدکاری اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو
امریکی قونصل جنرل کا کراچی پورٹ کا دورہ، جدیدکاری اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اکتوبر 1, 2026
گورنر سندھ سے آسٹریا کے اعزازی قونصل جنرل کی ملاقات، تجارتی و اقتصادی تعاون پر گفتگو
گورنر سندھ سے آسٹریا کے اعزازی قونصل جنرل کی ملاقات، تجارتی و اقتصادی تعاون پر گفتگو
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اکتوبر 1, 2026
صومالیہ میں قید پاکستانیوں کا معاملہ، گورنر سندھ نہال ہاشمی کا اہم بیان
صومالیہ میں قید پاکستانیوں کا معاملہ، گورنر سندھ نہال ہاشمی کا اہم بیان
تازہ ترین سیاست
اکتوبر 1, 2026
پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کامیاب، 15 اکتوبر تک مہلت
پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کامیاب، 15 اکتوبر تک مہلت
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اکتوبر 1, 2026
پی ایم اے کا ملک بھر کے نجی میڈیکل سینٹرز میں ہڑتال کا اعلان، حکومت کو 11 اکتوبر کی ڈیڈ لائن
پی ایم اے کا ملک بھر کے نجی میڈیکل سینٹرز میں ہڑتال کا اعلان، حکومت کو 11 اکتوبر کی ڈیڈ لائن
Health تازہ ترین
اکتوبر 1, 2026

You Might Also Like

برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا استعفیٰ، جانشین کی مکمل حمایت کا اعلان
World

برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا استعفیٰ، جانشین کی مکمل حمایت کا اعلان

By Mabruka Khan
ٹلسی گیبارڈ نے ٹرمپ انتظامیہ میں امریکی انٹیلی جنس کے اعلیٰ ترین منصب سے استعفیٰ دے دیا
World

ٹلسی گیبارڈ نے ٹرمپ انتظامیہ میں امریکی انٹیلی جنس کے اعلیٰ ترین منصب سے استعفیٰ دے دیا

By Abdul Rahim
World

ٹرمپ کا دعویٰ: یو ایف او جائزے میں ‘دلچسپ’ دستاویزات سامنے آئیں

By Syed Jarri Abbas
internationalWorld

جاپان کا "نانکائی ٹرف” اور بڑے زلزلے کا خوف: کیا ملک تیار ہے؟

By Ayan Ahmed
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?