بیجنگ میں ہونے والی ہاف میراتھن میں ہیومنائیڈ روبوٹس نے انسانوں کے ساتھ دوڑ لگائی اور بعض مواقع پر انہیں پیچھے چھوڑ دیا، جس سے روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت میں تیز رفتار ترقی ظاہر ہوتی ہے۔ ڈان نیوز کے مطابق اس ایونٹ میں ایسے جدید روبوٹس شامل تھے جو انسانوں کی طرح دوڑنے، توازن برقرار رکھنے اور بدلتے حالات کے مطابق خود کو ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ان روبوٹس نے حرکت، برداشت اور ہم آہنگی میں نمایاں بہتری دکھائی اور لمبے فاصلے تک مسلسل رفتار برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔ ماہرین کے مطابق یہ کامیابی AI، سینسرز اور مکینیکل ڈیزائن میں حالیہ ترقی کا نتیجہ ہے۔
یہ ریس صرف ایک مظاہرہ نہیں بلکہ ایک تجربہ بھی تھی، جس میں انجینئرز نے روبوٹس کی کارکردگی کو توانائی کے استعمال، توازن اور زمین کی تبدیلی کے مطابق ردعمل کے حوالے سے جانچا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی مستقبل میں ریسکیو آپریشنز، صحت کے شعبے اور صنعتی کاموں میں استعمال ہو سکتی ہے، تاہم ابھی بھی روبوٹس انسانی ذہانت اور فوری فیصلہ سازی کے برابر نہیں پہنچے۔
یہ ایونٹ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہیومنائیڈ روبوٹس کی دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور مستقبل میں یہ انسانوں کے ساتھ مل کر مختلف شعبوں میں کام کر سکتے ہیں۔
