امریکی طنزیہ اشاعتی ادارے دی اونین نے الیکس جونز کے متنازع پلیٹ فارم Infowars پر کنٹرول حاصل کرنے کی ایک نئی کوشش شروع کر دی ہے۔ تازہ عدالتی دستاویزات کے مطابق منصوبہ یہ ہے کہ انفووَرز کے برانڈ، ویب سائٹ اور سوشل میڈیا اثاثوں کو عارضی طور پر دی اونین کے حوالے کیا جائے تاکہ اسے ایک طنزیہ اور پیروڈی پلیٹ فارم میں بدلا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب الیکس جونز کی کمپنی Free Speech Systems بدنامیِ دعویٰ کے ایک بہت بڑے مالی بوجھ کے تحت liquidation کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ یہ مقدمات جونز کے اُن جھوٹے دعووں سے جڑے ہیں جن میں انہوں نے 2012 کے Sandy Hook Elementary School حملے کو ڈھونگ یا سازش قرار دیا تھا۔ متاثرین کے اہل خانہ کے حق میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ کے فیصلے آ چکے ہیں، اور انہی ادائیگیوں کے لیے جونز کے میڈیا اثاثوں پر قانونی لڑائی جاری ہے۔
نئے منصوبے کے تحت دی اونین سیدھی خریداری کے بجائے ایک licensing یا lease arrangement چاہتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ ابتدائی طور پر چھ ماہ کے لیے ہوگا، جس کے تحت دی اونین 81 ہزار ڈالر ماہانہ ادا کرے گی، اور ضرورت پڑنے پر مزید چھ ماہ کی توسیع بھی ممکن ہوگی۔ اس اسکیم کے تحت آپریشنل اخراجات پورے کیے جائیں گے، جبکہ منافع متاثرہ خاندانوں کو دیا جا سکتا ہے۔
دی اونین کی یہ کوشش دراصل پچھلی ناکامی کے بعد سامنے آئی ہے۔ 2024 میں ادارے نے انفووَرز کو نیلامی کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، مگر ایک وفاقی دیوالیہ جج نے اس عمل کو روک دیا تھا۔ عدالت نے اُس وقت نیلامی کے طریقۂ کار اور ممکنہ مالی قدر پر سوالات اٹھائے تھے، جس کے بعد خریداری کا راستہ بند ہو گیا تھا۔ اب دی اونین ایک نئے قانونی ڈھانچے کے ذریعے وہی ہدف حاصل کرنا چاہتی ہے۔
اس بار منصوبے کی ایک دلچسپ اور غیر معمولی جہت بھی سامنے آئی ہے۔ دی اونین کے چیف ایگزیکٹو بین کولنز کے مطابق اگر عدالت نے منظوری دے دی تو معروف مزاحیہ اداکار ٹم ہائیڈیکر کو اس نئے انفووَرز کا تخلیقی سربراہ بنایا جا سکتا ہے۔ مقصد صرف ویب سائٹ کا نام بدلنا نہیں، بلکہ اس پورے میڈیا انداز کو الٹ دینا ہے جس کے ذریعے برسوں تک سازشی بیانیے پھیلائے جاتے رہے۔
الیکس جونز نے اس منصوبے کی مخالفت کی ہے، تاہم رپورٹس کے مطابق انہوں نے یہ تسلیم بھی کیا ہے کہ وہ پلیٹ فارم سے محروم ہو سکتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا ہے کہ اگر انفووَرز ان کے ہاتھ سے نکل بھی گیا تو وہ کسی اور شکل میں نشریات جاری رکھنے کی کوشش کریں گے۔ اس سے واضح ہے کہ قانونی جنگ صرف ایک ویب سائٹ کی ملکیت تک محدود نہیں، بلکہ ایک بڑے آن لائن اثر و رسوخ کے مستقبل پر بھی لڑی جا رہی ہے۔
دی اونین کی انتظامیہ اس پورے معاملے کو محض ایک مزاحیہ تجربہ نہیں بلکہ جوابدہی کے ایک طریقے کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ بین کولنز نے اشارہ دیا ہے کہ انفووَرز پر جھوٹے اور اشتعال انگیز مواد کی مسلسل اشاعت نے اس نئی کوشش کو مزید ضروری بنا دیا۔ ان کے مطابق اگر ایک ایسا پلیٹ فارم، جو برسوں تک غلط معلومات پھیلاتا رہا، طنز اور تنقید کے لیے استعمال ہو تو یہ نہ صرف علامتی اہمیت رکھتا ہے بلکہ متاثرین کے لیے کسی حد تک انصاف کی شکل بھی بن سکتا ہے۔
اب نظریں عدالت پر ہیں۔ ٹیکساس کی عدالت نے اس فریم ورک کو ابتدائی سطح پر قبول کیا ہے، مگر حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔ اگر منظوری مل جاتی ہے تو امریکی میڈیا کی حالیہ تاریخ میں یہ شاید سب سے عجیب، مگر سب سے معنی خیز تبدیلیوں میں سے ایک ہوگی: ایک ایسا پلیٹ فارم جو سازشی دعووں کی علامت بن گیا تھا، اسے اسی زبان میں طنز کا نشانہ بنا دیا جائے گا۔
آخر میں اصل سوال یہی ہے کہ کیا یہ منصوبہ واقعی متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی فائدہ اور الیکس جونز کے اثر کو محدود کرنے کا ذریعہ بنے گا، یا پھر یہ بھی لمبی عدالتی لڑائی میں الجھ جائے گا۔ ابھی جواب قطعی نہیں، مگر اتنا ضرور ہے کہ دی اونین نے ایک بار پھر امریکی میڈیا اور عدالت کے سنگم پر کھڑی ایک غیر معمولی کہانی کو زندہ کر دیا ہے۔
