ایران کی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ “دھمکیوں کے سائے تلے” مذاکرات نہیں کرے گا۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ نئے رابطوں کی باتیں ہو رہی ہیں، مگر ساتھ ہی خطے میں کشیدگی، جنگ بندی کی غیر یقینی صورتِ حال اور واشنگٹن کے سخت لب و لہجے نے سفارتی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
قالیباف کا یہ مؤقف دراصل ایران کی حالیہ سرکاری لائن کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق انہوں نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ امریکا مذاکرات کو یا تو “ہتھیار ڈالنے کی میز” میں بدلنا چاہتا ہے یا پھر نئی جنگی کارروائی کے لیے جواز پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اسی تناظر میں ایرانی قیادت یہ تاثر دے رہی ہے کہ وہ اصولی طور پر بات چیت کے دروازے بند نہیں کر رہی، لیکن دباؤ، دھمکی یا فوجی دباؤ کے ماحول میں کسی پیش رفت کے لیے تیار نہیں۔
اس بیان کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایک طرف مذاکراتی وفد اسلام آباد بھیجنے کا عندیہ دیا، جبکہ دوسری طرف سخت موقف بھی برقرار رکھا۔ برطانوی اور امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر سکتے ہیں، تاہم ایران نے شرکت کی باضابطہ توثیق نہیں کی۔ یہی دوہرا ماحول، یعنی سفارت کاری کی بات بھی اور دباؤ بھی، اس بحران کو مزید الجھا رہا ہے۔
قالیباف اس سے پہلے بھی واشنگٹن پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کی رپورٹوں میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت میں ایرانی وفد نے مستقبل سے متعلق تجاویز پیش کیں، مگر تہران کے مطابق امریکا ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اسی پس منظر میں ایرانی مؤقف اب زیادہ واضح نظر آتا ہے: اگر امریکا واقعی پیش رفت چاہتا ہے تو اسے پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ محض دباؤ کی پالیسی نہیں چلا رہا۔
رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ ایران پہلے ہی بعض پیشگی شرائط اور فریم ورک کی خلاف ورزیوں پر اعتراض اٹھا چکا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق قالیباف نے کہا تھا کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی تہران کی مجوزہ 10 نکاتی ترتیب کی کئی شقیں متاثر ہو چکی تھیں۔ اس لیے موجودہ بیان کو صرف ایک سخت سیاسی جملہ سمجھنا درست نہیں ہوگا؛ یہ دراصل اس بڑے ایرانی مؤقف کا حصہ ہے جس میں اعتماد، پابندیاں، بحری ناکہ بندی اور علاقائی کشیدگی سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
فی الحال منظرنامہ یہی ہے کہ سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا، مگر بہت تنگ ہو چکا ہے۔ جنگ بندی کے خاتمے کے خدشات، آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی، اور دونوں طرف کے سخت بیانات نے مذاکرات کو ایک نازک مرحلے میں پہنچا دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ قالیباف کا بیان محض مذاکراتی دباؤ بڑھانے کی کوشش تھا یا واقعی ایران نے دھمکی اور سفارت کاری کو ایک ساتھ قبول نہ کرنے کی سرخ لکیر کھینچ دی ہے۔
ایران کی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ “دھمکیوں کے سائے تلے” مذاکرات نہیں کرے گا۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ نئے رابطوں کی باتیں ہو رہی ہیں، مگر ساتھ ہی خطے میں کشیدگی، جنگ بندی کی غیر یقینی صورتِ حال اور واشنگٹن کے سخت لب و لہجے نے سفارتی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
قالیباف کا یہ مؤقف دراصل ایران کی حالیہ سرکاری لائن کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق انہوں نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ امریکا مذاکرات کو یا تو “ہتھیار ڈالنے کی میز” میں بدلنا چاہتا ہے یا پھر نئی جنگی کارروائی کے لیے جواز پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اسی تناظر میں ایرانی قیادت یہ تاثر دے رہی ہے کہ وہ اصولی طور پر بات چیت کے دروازے بند نہیں کر رہی، لیکن دباؤ، دھمکی یا فوجی دباؤ کے ماحول میں کسی پیش رفت کے لیے تیار نہیں۔
اس بیان کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایک طرف مذاکراتی وفد اسلام آباد بھیجنے کا عندیہ دیا، جبکہ دوسری طرف سخت موقف بھی برقرار رکھا۔ برطانوی اور امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر سکتے ہیں، تاہم ایران نے شرکت کی باضابطہ توثیق نہیں کی۔ یہی دوہرا ماحول، یعنی سفارت کاری کی بات بھی اور دباؤ بھی، اس بحران کو مزید الجھا رہا ہے۔
قالیباف اس سے پہلے بھی واشنگٹن پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کی رپورٹوں میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت میں ایرانی وفد نے مستقبل سے متعلق تجاویز پیش کیں، مگر تہران کے مطابق امریکا ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اسی پس منظر میں ایرانی مؤقف اب زیادہ واضح نظر آتا ہے: اگر امریکا واقعی پیش رفت چاہتا ہے تو اسے پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ محض دباؤ کی پالیسی نہیں چلا رہا۔
رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ ایران پہلے ہی بعض پیشگی شرائط اور فریم ورک کی خلاف ورزیوں پر اعتراض اٹھا چکا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق قالیباف نے کہا تھا کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی تہران کی مجوزہ 10 نکاتی ترتیب کی کئی شقیں متاثر ہو چکی تھیں۔ اس لیے موجودہ بیان کو صرف ایک سخت سیاسی جملہ سمجھنا درست نہیں ہوگا؛ یہ دراصل اس بڑے ایرانی مؤقف کا حصہ ہے جس میں اعتماد، پابندیاں، بحری ناکہ بندی اور علاقائی کشیدگی سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
فی الحال منظرنامہ یہی ہے کہ سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا، مگر بہت تنگ ہو چکا ہے۔ جنگ بندی کے خاتمے کے خدشات، آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی، اور دونوں طرف کے سخت بیانات نے مذاکرات کو ایک نازک مرحلے میں پہنچا دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ قالیباف کا بیان محض مذاکراتی دباؤ بڑھانے کی کوشش تھا یا واقعی ایران نے دھمکی اور سفارت کاری کو ایک ساتھ قبول نہ کرنے کی سرخ لکیر کھینچ دی ہے۔
