اسلام آباد: گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات 7 جون 2026 کو ہونے جا رہے ہیں، اور مسلم لیگ (ن) نے اپنی انتخابی حکمتِ عملی میں ایک بار پھر ترقی کو مرکزی نکتہ بنا دیا ہے۔ اسی سلسلے میں اسلام آباد میں پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس نواز شریف کی زیرِ صدارت ہوا، جس میں امیدواروں اور انتخابی تیاریوں پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں سے کہا کہ مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان میں ترقی اور عوامی خدمت کا ایک نمایاں ریکارڈ رکھتی ہے، اور یہی پیغام ووٹروں تک بھرپور انداز میں پہنچایا جانا چاہیے۔ سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ترقی کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کا ریکارڈ بے مثال ہے۔
یہ اجلاس صرف ایک رسمی مشاورت نہیں تھا۔ چند روز پہلے ہی مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان انتخابات 2026 کے لیے 23 رکنی پارلیمانی بورڈ تشکیل دیا تھا، جس میں نواز شریف، وزیرِاعظم شہباز شریف اور دیگر سینئر رہنما شامل ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پارٹی اس انتخاب کو سیاسی طور پر خاص اہمیت دے رہی ہے۔
گلگت بلتستان کی انتخابی سرگرمی اس بار کچھ مختلف پس منظر میں آگے بڑھ رہی ہے۔ اس سے پہلے انتخابات کے لیے 24 جنوری 2026 کی تاریخ زیرِ غور آئی تھی، تاہم بعد میں نیا شیڈول جاری کیا گیا اور پولنگ کی تاریخ 7 جون 2026 مقرر کی گئی۔ اس تبدیلی نے سیاسی جماعتوں کو دوبارہ صف بندی، امیدواروں کے چناؤ اور انتخابی بیانیہ مضبوط کرنے کے لیے زیادہ وقت دے دیا۔
مسلم لیگ (ن) کی حالیہ حکمتِ عملی سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پارٹی گلگت بلتستان میں اپنی پہچان ایک ایسی جماعت کے طور پر برقرار رکھنا چاہتی ہے جو سڑکوں، توانائی، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے جیسے عملی منصوبوں پر زور دیتی ہے۔ وفاقی وزیر امیر مقام بھی حالیہ دنوں میں گلگت بلتستان کے لیے شمسی توانائی، تعلیمی اقدامات اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے رہے ہیں، جسے پارٹی کے وسیع تر انتخابی بیانیے کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابات ہمیشہ صرف مقامی نشستوں کا معاملہ نہیں ہوتے، بلکہ یہ بڑی جماعتوں کے لیے اپنی سیاسی ساکھ آزمانے کا موقع بھی بن جاتے ہیں۔ یہاں ووٹر عموماً نعروں سے زیادہ اس بات کو دیکھتے ہیں کہ کس جماعت نے واقعی سڑکیں بنائیں، بجلی کے مسائل کم کیے، روزمرہ سہولتیں بہتر کیں اور انتظامی استحکام دیا۔ نواز شریف کا حالیہ پیغام اسی سیاسی حقیقت کے مطابق دکھائی دیتا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا یہ ترقیاتی بیانیہ انتخابی میدان میں کتنا اثر دکھاتا ہے۔ لیکن فی الحال پارٹی کی سمت واضح ہے: گلگت بلتستان میں ووٹرز کو یہی باور کرایا جائے کہ اگر کوئی جماعت ترقی کے عملی منصوبوں کے ساتھ کھڑی ہے، تو وہ مسلم لیگ (ن) ہے۔
