واشنگٹن: ایک نئی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اُن افغانوں کے لیے جمہوریہ کانگو کا آپشن زیرِ غور لا رہی ہے جنہوں نے ماضی میں امریکی افواج یا امریکی مشنز کی مدد کی تھی، مگر اب وہ محفوظ منتقلی کے عمل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ خبر اس لیے خاصی حساس سمجھی جا رہی ہے کیونکہ کانگو پہلے ہی امریکا کے ساتھ ایک عارضی انتظام کے تحت بعض تیسرے ملک کے deportees کو کیس بہ کیس بنیاد پر لینے پر آمادہ ہو چکا ہے۔
اس معاملے کا سب سے نازک پہلو یہ ہے کہ بات عام غیر قانونی مہاجرین کی نہیں، بلکہ ایسے افغانوں کی ہو رہی ہے جو امریکی فوج، سفارتی مشنز یا اتحادی ڈھانچے کے ساتھ کام کرنے کے باعث طالبان اور دوسرے شدت پسند گروہوں کے ممکنہ انتقام کے خطرے میں رہے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق قطر میں ایک سابق امریکی اڈے پر 1,100 سے زیادہ افغان ایک سال سے زیادہ عرصے سے پھنسے ہوئے ہیں، کیونکہ امریکا منتقلی اور پناہ کے عمل کو سست یا منجمد کر چکا ہے۔
کانگو کا نام سامنے آنا اسی لیے چونکا دینے والا ہے۔ اے پی کے مطابق حالیہ دنوں میں تقریباً 15 لاطینی امریکی deportees امریکا سے کانگو پہنچے، اور کانگو کی حکومت نے کہا کہ یہ انتظام عارضی ہے، ہر فرد کا کیس الگ دیکھا جائے گا، جبکہ انسانی بنیادوں پر مدد کے لیے بین الاقوامی ادارے بھی شامل ہیں۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے ملک میں لوگوں کو بھیجنا جو خود سکیورٹی، انسانی بحران اور عدم استحکام کے مسائل سے دوچار ہو، شدید سوالات کھڑے کرتا ہے۔
ابھی تک دستیاب معلومات سے یہی لگتا ہے کہ یہ کوئی مکمل اور حتمی پروگرام نہیں بلکہ پالیسی سطح پر زیرِ بحث ایک ممکنہ راستہ ہے۔ مگر صرف یہ بات کہ کانگو جیسے تیسرے ملک کا آپشن سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے، اس بات کی علامت ہے کہ افغان اتحادیوں کے لیے امریکی resettlement نظام بری طرح دباؤ میں ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی آیا ہے کہ خلیجی اور مسلم اکثریتی ملکوں میں ان افغانوں کی منتقلی کی ابتدائی کوششیں خاطر خواہ کامیاب نہیں ہو سکیں۔
اس خبر کے سیاسی اور اخلاقی مضمرات بھی گہرے ہیں۔ افغانستان جنگ کے دوران امریکی فوجیوں، مترجموں اور مقامی معاونین کے درمیان ایک غیر تحریری وعدہ موجود تھا کہ جو افغان امریکا کے ساتھ کھڑے ہوں گے، انہیں اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا۔ اسی لیے veteran گروپس اور افغان حامی تنظیمیں پہلے ہی خبردار کر رہی ہیں کہ اگر ان لوگوں کو امریکا لانے کے بجائے کسی تیسرے ملک، خاص طور پر کانگو، بھیجنے کی کوشش ہوئی تو اسے وعدہ خلافی کے طور پر دیکھا جائے گا۔
فی الحال اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ صرف اندرونی مشاورت ہے یا واقعی کوئی باضابطہ منتقلی منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ لیکن ایک بات صاف دکھائی دیتی ہے: کابل کے سقوط کے برسوں بعد بھی وہ افغان، جنہوں نے امریکی افواج پر بھروسا کیا تھا، اب تک غیر یقینی کے عالم میں ہیں، اور انہیں اب یہ فکر لاحق ہے کہ امریکا انہیں پناہ دے گا، انتظار میں رکھے گا، یا کسی اور ملک بھیج دے گا۔
