چاغی — بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے دالبندین میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک نجی کان کنی کی سائٹ پر دھاوا بول کر 9 مزدوروں کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
یہ واقعہ بدھ کی صبح پیش آیا جب حملہ آور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سائٹ میں داخل ہوئے۔ ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے تمام مزدوروں کو ایک جگہ اکٹھا کیا، ان کی شناخت کی، اور پھر مقامی عملے کو چھوڑ کر صرف پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کو نشانہ بنایا۔
واقعے کے بعد حملہ آور آسانی سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ مقامی لیویز اور پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا۔ چاغی لیویز کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "حملہ آوروں کا ہدف واضح تھا، انہوں نے مقامی افراد کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ شناخت کی بنیاد پر صرف دوسرے صوبوں سے آئے مزدوروں کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔”
ابھی تک کسی کالعدم تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، تاہم طریقہ واردات بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند گروہوں کے پرانے حملوں سے مماثلت رکھتا ہے۔ یہ گروہ ماضی میں بھی غیر مقامی افراد کو نشانہ بنا کر ریاستی عمل داری کو چیلنج کرتے رہے ہیں۔
بلوچستان میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران سیکیورٹی کی صورتحال تیزی سے بگڑی ہے۔ سڑک کنارے نصب بم دھماکوں سے لے کر ٹارگٹ کلنگ تک، صوبے میں تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ چاغی کے پسماندہ علاقے میں یہ کان کنی کی سائٹ ان مزدوروں کے لیے روزگار کا واحد ذریعہ تھی، جو اپنے گھروں کے چولہے جلانے کے لیے سینکڑوں کلومیٹر دور یہاں مزدوری کرنے آئے تھے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے صوبے کا امن خراب کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔ انہوں نے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا ہے، تاہم ماضی میں اس طرح کے احکامات کے باوجود ملزمان کی گرفتاری اور ٹھوس نتائج کا حصول ایک بڑا سوالیہ نشان رہا ہے۔
جاں بحق ہونے والے مزدوروں کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی میتیں وصول کرنے کے لیے غم سے نڈھال ہیں۔ یہ اندوہناک واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان میں جاری شورش کی قیمت عام محنت کشوں کو اپنی جان دے کر چکانی پڑ رہی ہے۔ ضلع بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے، لیکن دور افتادہ علاقوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے ریاستی تحفظ اب بھی ایک خواب بنا ہوا ہے، جہاں موت کا سایہ ہر وقت ان کے سروں پر منڈلاتا رہتا ہے۔
