تنزانیہ میں حالیہ انتخابی عمل کے دوران کم از کم 500 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ رواں ہفتے جاری ہونے والی ایک آزادانہ تحقیقاتی رپورٹ نے حکومتی دعووں کو زمین بوس کر دیا ہے، جن میں انتخابات کو پرامن اور شفاف قرار دیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ محض اتفاقی واقعات نہیں بلکہ ریاست کی ایما پر کیا گیا ایک منظم کریک ڈاؤن تھا جس کا مقصد اپوزیشن کو کچلنا تھا۔
انسانی حقوق کے مبصرین اور فرانزک ماہرین کی تیار کردہ اس رپورٹ میں تشدد کے ہولناک واقعات کی تفصیلات درج ہیں۔ ووٹنگ کے آخری ہفتے میں جب سکیورٹی فورسز نے موجودہ حکومت کی گرفت مضبوط کرنے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا، تو ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ ثبوتوں میں گولیوں کے نشانات، تشدد کی علامات اور جبری گمشدگیوں کے ٹھوس شواہد شامل ہیں جو ایک سنگین انسانی المیے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
زیادہ تر ہلاکتیں دارالسلام اور اروشا جیسے بڑے شہروں میں ہوئیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ نیم فوجی دستوں نے منظم طریقے سے اپوزیشن کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں کے ووٹرز کو پولنگ اسٹیشنز تک پہنچنے سے روکا۔ ان گروہوں نے نہ صرف ووٹنگ میں خلل ڈالا بلکہ حکومت پر تنقید کرنے والے سرگرم کارکنوں اور منتظمین کو بھی براہِ راست نشانہ بنایا۔
تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر آمنہ جمعہ نے صورتحال کی سنگینی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "یہ محض چند جھڑپیں نہیں تھیں بلکہ خوف پھیلا کر آواز دبانے کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی تھی۔ جانی نقصان کی یہ شرح کسی بھی جمہوری ملک کے لیے شرمناک ہے۔”
تنزانیہ کی حکومت نے حسبِ توقع اس رپورٹ کو "سیاسی بنیادوں پر مبنی پروپیگنڈا” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ حکام کا موقف ہے کہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے ہیں اور بدامنی کے پیچھے اپوزیشن کا ہاتھ تھا جو ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتی تھی۔ تاہم، ماہرین نے جیو لوکیشن ڈیٹا اور ہسپتالوں کے ریکارڈ پیش کیے ہیں جو حکومت کے "پرامن الیکشن” والے بیانیے کی کھلی نفی کرتے ہیں۔
عالمی برادری کی خاموشی نے مقامی انسانی حقوق کے کارکنوں کو شدید مایوس کیا ہے، جو اسے ایک بڑا دھوکہ قرار دے رہے ہیں۔ اب جبکہ ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے، عالمی اداروں اور ٹربیونلز کی مداخلت کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
