پاکستان میں جمعرات کے روز سونے کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں مقامی صرافہ بازار میں 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 5,200 روپے کم ہو کر 493,762 روپے پر آ گئی۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 4,458 روپے کمی کے بعد 423,321 روپے ریکارڈ کی گئی۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کمی عالمی مارکیٹ میں سونے کی نرم پڑتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کے تحت دیکھی گئی۔
رپورٹس کے مطابق یہ گراوٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب گزشتہ دنوں پاکستان میں سونے کی قیمتیں غیر معمولی بلندیوں کے قریب پہنچ گئی تھیں۔ 22 اپریل کو بعض رپورٹس میں فی تولہ قیمت 503,000 روپے سے اوپر بتائی گئی تھی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مقامی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کافی تیز رہا۔
عالمی سطح پر بھی سونے کی قیمت میں دباؤ دیکھا گیا۔ بین الاقوامی مارکیٹ رپورٹوں کے مطابق ڈالر کی مضبوطی، شرحِ سود سے متعلق توقعات، اور سرمایہ کاروں کے محتاط رویے نے سونے کی طلب پر اثر ڈالا، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں کمی آئی۔
پاکستانی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں ایسی تبدیلی صرف سرمایہ کاروں تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کا براہِ راست اثر زیورات خریدنے والے عام صارفین اور جیولرز پر بھی پڑتا ہے۔ خاص طور پر شادیوں کے سیزن میں قیمتوں کا یہ اتار چڑھاؤ خریداروں کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ تاہم، ایک دن کی کمی کے باوجود سونا اب بھی تاریخی طور پر بہت مہنگی سطح پر موجود ہے۔
فی الحال مارکیٹ کی سمت کا انحصار عالمی رجحانات پر رہے گا۔ اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں دباؤ برقرار رہا تو پاکستان میں قیمتیں مزید کم ہو سکتی ہیں، لیکن اگر محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کی طلب دوبارہ بڑھی تو مقامی مارکیٹ میں تیزی بھی واپس آ سکتی ہے۔ ابھی کے لیے 23 اپریل کی کمی کو مکمل رجحان کی تبدیلی کے بجائے ایک تیز مگر وقتی موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
