اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے پاکستان میں اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والی خواتین اور بچیوں کے اغوا، جبری مذہب تبدیلی اور زبردستی شادیوں کے مسلسل واقعات پر نئی اور سخت تشویش ظاہر کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ اب چند الگ تھلگ واقعات تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک منظم اور دیرینہ انسانی حقوق کا بحران بنتا جا رہا ہے، جس میں خاص طور پر ہندو اور مسیحی برادری کی لڑکیاں زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔
22 اپریل کو جاری بیان میں اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ مذہب کی تبدیلی صرف اسی صورت جائز سمجھی جا سکتی ہے جب وہ مکمل آزادی اور بغیر کسی دباؤ کے کی جائے۔ اسی طرح شادی بھی صرف آزاد اور واضح رضامندی سے ہونی چاہیے۔ ماہرین نے زور دے کر کہا کہ اگر متاثرہ فرد بچی ہو تو ایسی رضامندی قانونی اور اخلاقی دونوں لحاظ سے قابلِ قبول نہیں سمجھی جا سکتی۔
بیان کے مطابق 2025 میں سامنے آنے والے ایسے واقعات میں تقریباً 75 فیصد متاثرین ہندو لڑکیاں تھیں، جبکہ 25 فیصد مسیحی برادری سے تعلق رکھتی تھیں۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے یہ بھی کہا کہ قریب 80 فیصد رپورٹ شدہ کیسز صوبہ سندھ میں پیش آئے۔ ان کے مطابق 14 سے 18 سال کی عمر کی لڑکیاں خاص طور پر زیادہ خطرے میں ہیں، تاہم بعض متاثرین اس سے بھی کم عمر رہی ہیں۔ غربت، سماجی کمزوری اور اقلیتی حیثیت ان خطرات کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
اقوامِ متحدہ نے پاکستانی اداروں کے کردار پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ ماہرین کے مطابق پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اکثر خاندانوں کی شکایات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، فوری تفتیش نہیں کرتے یا متاثرہ لڑکی کی عمر درست طور پر جانچنے میں ناکام رہتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں کئی مقدمات پیچیدہ ہو جاتے ہیں، کیونکہ عمر کا تعین اس بات میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے کہ شادی کو قانونی مانا جائے یا جرم قرار دیا جائے۔
اقوامِ متحدہ نے واضح کیا کہ اصل مسئلہ صرف اغوا یا دباؤ کے ذریعے مذہب تبدیل کرانے تک محدود نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ بعض اوقات نظامِ انصاف خود ایسے معاملات کو معمول کا حصہ بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارے نے اس معاملے کو محض سماجی یا خاندانی تنازع کے بجائے ایک سنگین انسانی حقوق کے مسئلے کے طور پر پیش کیا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ اقوامِ متحدہ نے پاکستان کے حوالے سے ایسی تشویش ظاہر کی ہو۔ اپریل 2024 میں بھی ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ ہندو اور مسیحی لڑکیاں جبری مذہب تبدیلی، اغوا، انسانی اسمگلنگ، کم عمری کی شادی، گھریلو جبری مشقت اور جنسی تشدد جیسے خطرات سے دوچار ہیں۔ اس وقت اقوامِ متحدہ نے یہ بھی کہا تھا کہ بعض عدالتی فیصلوں میں متاثرہ لڑکیوں کو واپس خاندان کے سپرد کرنے کے بجائے مبینہ اغوا کاروں کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی گئی، جس پر شدید سوالات اٹھے تھے۔
اس پس منظر میں اقوامِ متحدہ نے چند واضح مطالبات بھی سامنے رکھے ہیں۔ ماہرین نے پاکستان سے کہا ہے کہ ملک بھر میں شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی جائے، جبری مذہب تبدیلی کو الگ جرم قرار دیا جائے، انسانی اسمگلنگ اور جنسی تشدد سے متعلق قوانین پر مؤثر عمل درآمد کیا جائے، اور تمام الزامات کی غیر جانبدارانہ اور فوری تحقیقات یقینی بنائی جائیں۔ اس کے ساتھ متاثرہ بچیوں اور خواتین کے لیے پناہ گاہیں، قانونی مدد، نفسیاتی مشاورت اور بحالی کی سہولیات فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی حالیہ تنبیہ ایک بڑے تناظر کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ گزشتہ برس عالمی ماہرین نے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد، امتیازی سلوک اور سزا سے بچ نکلنے کے رجحان پر بھی تشویش ظاہر کی تھی۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ اقلیتی لڑکیوں کی جبری مذہب تبدیلی کا مسئلہ ایک الگ تھلگ سماجی خرابی نہیں بلکہ ایک وسیع تر ماحول کا حصہ ہے، جہاں کمزور طبقات کو برابر تحفظ حاصل نہیں۔
تازہ بیان نے پاکستان پر ایک بار پھر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں کہ ایسے واقعات پیش کیوں آ رہے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ریاستی ادارے متاثرہ خاندانوں کو بروقت اور مؤثر انصاف دینے میں کیوں ناکام رہتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے نزدیک جب تک قانون، تفتیش اور عدالتی عمل میں واضح اصلاحات نہیں کی جاتیں، اقلیتوں کی بچیوں کے تحفظ کا دعویٰ ادھورا ہی رہے گا۔
