اسرائیل اور لبنان نے جمعرات، 23 اپریل 2026 کو اپنی نازک جنگ بندی میں مزید تین ہفتوں کی توسیع پر اتفاق کیا۔ یہ پیش رفت وائٹ ہاؤس میں ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آئی، جنہیں واشنگٹن نے ایک محدود مگر اہم سفارتی قدم قرار دیا۔ یہ جنگ بندی دراصل 16 اپریل کو شروع ہونے والی 10 روزہ مہلت کا تسلسل ہے، جس کی مدت اب بڑھا دی گئی ہے۔
اس تازہ پیش رفت کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان یہ رابطہ کئی دہائیوں بعد ہونے والی نایاب براہِ راست سفارت کاری میں شمار ہو رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ توسیع کا فیصلہ وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی سفیر یخیئل لیٹر اور لبنانی سفیر ندا حمادہ معوض سے ملاقاتوں کے بعد ہوا۔ امریکی حکام کے مطابق بات چیت کا مقصد صرف جنگ بندی بڑھانا نہیں بلکہ آئندہ مذاکرات کا راستہ بھی کھلا رکھنا ہے۔
لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ واقعی کسی بڑے امن عمل کی شروعات ہے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی کے باوجود سرحدی کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ مختلف رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں اور حملوں کے الزامات جاری ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ معاہدہ فی الحال ایک عارضی سہارا ہے، پائیدار حل نہیں۔
لبنان اس عمل کو ایک وسیع تر سیاسی فریم میں دیکھ رہا ہے۔ بیروت چاہتا ہے کہ بات صرف عارضی خاموشی تک محدود نہ رہے بلکہ اسرائیلی حملوں کے خاتمے، جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلا، اور تباہ شدہ علاقوں کی تعمیرِ نو جیسے معاملات بھی باضابطہ ایجنڈے میں شامل ہوں۔ دوسری طرف اسرائیلی مؤقف بدستور حزب اللہ کے عسکری کردار اور سرحدی موجودگی پر مرکوز ہے، جسے وہ کسی بھی مستقل سمجھوتے میں مرکزی مسئلہ قرار دیتا ہے۔
ادھر حزب اللہ کی جانب سے اس سفارتی عمل پر کھلا جوش نظر نہیں آ رہا۔ تنظیم نے پہلے بھی ایسے مذاکرات پر تحفظات ظاہر کیے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ توسیع کو کئی مبصرین ایک “وقفہ” تو قرار دے رہے ہیں، مگر “بریک تھرو” نہیں۔ لبنان کے اندر بھی یہ احساس موجود ہے کہ اصل امتحان کاغذی توسیع نہیں بلکہ میدان میں خاموشی برقرار رہنا ہے۔
اس پوری پیش رفت کو ایران سے متعلق تعطل سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے اس وقت رکے ہوئے ہیں، اور خلیج میں کشیدگی نے اس جمود کو اور گہرا کر دیا ہے۔ تازہ امریکی رپورٹنگ کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایرانی سرگرمیوں، امریکی ناکہ بندی، اور جہاز رانی کے تحفظ سے متعلق تنازع نے سفارتی عمل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی پیش رفت کے لیے بین الاقوامی جہاز رانی کا تحفظ ضروری ہے، جبکہ ایران امریکی دباؤ اور پابندیوں کو بنیادی رکاوٹ قرار دیتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت معمولی نہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق یہ آبی گذرگاہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تجارت کے لگ بھگ 20 فیصد کے لیے اہم راستہ ہے۔ اسی لیے وہاں کشیدگی صرف علاقائی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ فوری طور پر عالمی منڈی، توانائی کی قیمتوں اور بحری سلامتی کے سوالات سے جڑ جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں کئی بحری واقعات اور جہازوں پر حملوں کی اطلاعات نے اس بحران کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
لبنان کے اندر انسانی قیمت بھی اس ساری خبر کا لازمی حصہ ہے۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق اس جنگ میں لبنان میں 2,300 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں اور 10 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ اسی دوران لبنانی صحافی امل خلیل کی ایک اسرائیلی حملے میں ہلاکت نے شدید ردعمل پیدا کیا ہے۔ ان کی موت پر مقامی اور بین الاقوامی سطح پر مذمت سامنے آئی، جبکہ میڈیا آزادی کی تنظیموں نے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
امل خلیل کا واقعہ اس لیے بھی نمایاں ہو گیا کہ اسے صرف ایک جنگی نقصان نہیں بلکہ صحافیوں کے تحفظ کے بڑے سوال سے جوڑا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق وہ جنوبی لبنان میں رپورٹنگ کے دوران ایک مکان میں پناہ لیے ہوئے تھیں جب حملہ ہوا۔ لبنان میں حکام اور میڈیا اداروں نے الزام لگایا کہ صحافیوں کو دانستہ نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ اسرائیل نے کہا ہے کہ واقعے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اسرائیل اور لبنان نے وقتی طور پر ایک اور مہلت حاصل کر لی ہے، مگر خطے کا بڑا بحران اپنی جگہ موجود ہے۔ سرحد پر بداعتمادی برقرار ہے، حزب اللہ کا مسئلہ حل نہیں ہوا، لبنان وسیع تر سیاسی ضمانتیں چاہتا ہے، اور امریکہ۔ایران بات چیت تعطل میں پھنسی ہوئی ہے۔ اس لیے موجودہ توسیع اہم ضرور ہے، مگر اسے امن کی منزل نہیں، صرف ایک خطرناک موڑ پر حاصل ہونے والا وقفہ کہنا زیادہ درست ہوگا۔
