میکسیکو نے کہا ہے کہ چیواوا میں کار حادثے میں ہلاک ہونے والے دو امریکی سفارتی اہلکار ملک میں سکیورٹی کارروائیوں میں حصہ لینے کے مجاز نہیں تھے، جس سے منشیات فروش گروہوں کے خلاف امریکی کردار پر کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ صدر کلاڈیا شین بام نے کہا کہ ان کی حکومت نے اس کارروائی کی اجازت نہیں دی تھی اور واضح کیا کہ غیر ملکی اہلکاروں کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون وفاقی سطح پر منظوری کے بغیر ممکن نہیں۔
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب دو امریکی اہلکاروں اور دو میکسیکن ریاستی تحقیق کاروں کو لے جانے والی گاڑی چیواوا میں منشیات کی خفیہ لیبارٹریز کے خلاف کارروائی کے دوران ایک کھائی میں جا گری۔ اس حادثے میں چاروں افراد ہلاک ہو گئے۔ بعد ازاں میکسیکو نے اس بات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ آیا امریکی اہلکاروں کی موجودگی ملکی سکیورٹی قوانین کی خلاف ورزی تھی، کیونکہ متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ آیا وہ براہِ راست کارروائی میں شامل تھے یا بعد میں موقع پر پہنچے تھے۔
امریکی اہلکاروں کا اصل کردار ابھی واضح نہیں ہے۔ اے بی سی نے امریکی حکام اور قریبی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ دونوں سفارتی اہلکار سی آئی اے کے انسداد منشیات آپریشنز سے وابستہ تھے، جبکہ اے پی کے مطابق میکسیکو نے باضابطہ وضاحت طلب کی ہے اور کہا ہے کہ غیر ملکی ایجنٹس کی زمینی کارروائیاں وفاقی اجازت کے بغیر ممنوع ہیں۔ امریکہ نے اب تک ان کے کردار یا مشن کی وضاحت نہیں کی۔
یہ معاملہ اس لیے بھی حساس ہے کیونکہ واشنگٹن کے ساتھ سکیورٹی تعاون میکسیکو کی سیاست میں ایک نہایت نازک موضوع ہے۔ صدر شین بام بارہا کہہ چکی ہیں کہ انٹیلی جنس شیئرنگ قابل قبول ہے لیکن “زمینی کارروائی” نہیں، اور یہ واقعہ ایک بار پھر خودمختاری سے متعلق بحث کو سامنے لے آیا ہے۔
فی الحال اصل سوال یہ ہے کہ یہ اہلکار وہاں کر کیا رہے تھے۔ جب تک دونوں ممالک مکمل وضاحت نہیں دیتے، یہ معاملہ امریکا اور میکسیکو کے درمیان کشیدگی کا ایک بڑا سفارتی تنازع بنا رہے گا۔
