سن رائزرز حیدرآباد کے کپتان پیٹ کمنز نے راجستھان رائلز کے 15 سالہ بلے باز ویبھو سوریہ ونشی کی دھواں دار اننگز کے بعد انہیں اپنا “نیا پسندیدہ کھلاڑی” قرار دیا۔ یہ جملہ محض رسمی تعریف نہیں تھا؛ کمنز یہ بات اس میچ کے فوراً بعد کہہ رہے تھے جس میں سوریہ ونشی نے ان کے بولنگ اٹیک پر بھرپور حملہ کیا اور راجستھان کو 228 رنز تک پہنچا دیا۔
اصل بات یہ ہے کہ سوریہ ونشی نے 37 گیندوں پر 103 رنز کی برق رفتار اننگز کھیلی، جبکہ دھرو جوریل نے 51 اور ڈونوون فریرا نے 33 رنز جوڑے۔ اس کے باوجود راجستھان کو شکست ہوئی، کیونکہ سن رائزرز حیدرآباد نے 229 رنز کا ہدف 5 وکٹوں کے نقصان پر 9 گیندیں قبل حاصل کر لیا۔ ایشان کشن نے 74 اور ابھیشیک شرما نے 57 رنز بنا کر ہدف کے تعاقب کو کامیاب بنایا۔
کمنز کی تعریف اس لیے بھی زیادہ اہم محسوس ہوئی کیونکہ یہ مخالف کپتان کی طرف سے آئی۔ عام طور پر ایسی تعریفیں اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے سننے کو ملتی ہیں، مگر یہاں جیتنے والی ٹیم کے کپتان نے شکست کھانے والی ٹیم کے ایک کم عمر بلے باز کو میچ کے بعد نمایاں انداز میں سراہا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سوریہ ونشی کی اننگز نے میدان میں موجود ہر شخص پر کتنا گہرا اثر چھوڑا۔
سوریہ ونشی کی عمر بھی اس کہانی کو اور بڑا بنا دیتی ہے۔ ان کے سرکاری پروفائل کے مطابق وہ 27 مارچ 2011 کو پیدا ہوئے تھے، یعنی وہ اس وقت صرف 15 برس کے ہیں۔ اتنی کم عمر میں آئی پی ایل جیسے بڑے اسٹیج پر اس نوعیت کی سنچری کھیلنا خود ہی غیرمعمولی بات ہے، اور اسی لیے ان کے گرد جو جوش پیدا ہوا ہے، وہ محض وقتی شور نہیں لگتا۔
راجستھان کے لیے یہ رات عجیب طرح سے کڑوی بھی رہی۔ ایک طرف ٹیم کو اپنے نوجوان بلے باز سے ناقابلِ یقین سنچری ملی، دوسری طرف اتنا بڑا اسکور بھی جیت میں نہ بدل سکا۔ مگر بعض اننگز ایسی ہوتی ہیں جو شکست کے باوجود یاد رہ جاتی ہیں۔ سوریہ ونشی کی یہ سنچری بھی شاید اسی درجے میں جا بیٹھی ہے۔
کمنز کا یہ کہنا کہ "یہ اب میرا نیا پسندیدہ کھلاڑی ہے” دراصل اسی احساس کا خلاصہ ہے۔ کبھی کبھار کرکٹ میں کوئی نوجوان کھلاڑی اچانک ایسا کھیل دکھا دیتا ہے کہ بحث ختم ہو جاتی ہے۔ پھر بات صلاحیت کی نہیں رہتی، صرف یہ سوال بچتا ہے کہ وہ آگے کہاں تک جائے گا۔ سوریہ ونشی اس مرحلے کے بہت قریب دکھائی دے رہے ہیں۔
