پشاور زلمی کے کپتان بابر اعظم نے پی ایس ایل فائنل میں ٹاس جیت کر حیدرآباد کنگز مین کے خلاف پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ قذافی اسٹیڈیم کی فلڈ لائٹس میں ہونے والے اس اہم فیصلے نے ٹورنامنٹ کے اس سب سے بڑے معرکے کا مزاج طے کر دیا ہے۔
حیدرآباد کنگز مین—جو اپنے پہلے ہی سیزن میں فائنل تک پہنچ کر سب کو حیران کر چکے ہیں—اب ایک بڑا اسکور بورڈ پر سجانے کی کوشش کریں گے تاکہ سابقہ چیمپئن پشاور زلمی پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ زلمی کا پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ ممکنہ طور پر اوس (dew) کے فیکٹر کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے، جو لاہور میں دوسری اننگز میں بیٹنگ کرنے والی ٹیم کے لیے ہمیشہ سازگار ثابت ہوتی ہے۔
بابر اعظم کے پاس تجربہ کار بولنگ اٹیک موجود ہے۔ نوین الحق اور سلمان ارشاد جیسے پیسرز کی موجودگی میں زلمی کا ہدف یہ ہے کہ پاور پلے کے دوران حیدرآباد کے ٹاپ آرڈر پر دباؤ ڈال کر جلد وکٹیں حاصل کی جائیں۔ اگر زلمی ابتدائی کامیابیوں میں کامیاب ہوتی ہے تو کنگز مین کا مڈل آرڈر ہجوم کے شور اور فائنل کے دباؤ میں بکھر سکتا ہے۔
دوسری جانب حیدرآباد کے لیے حکمت عملی واضح ہے۔ انہیں ابتدائی چھ اوورز میں محتاط رہ کر رن ریٹ برقرار رکھنا ہوگا۔ ٹاس سے قبل حیدرآباد کے کپتان نے اعتراف کیا کہ وہ خود بھی پہلے بولنگ ہی کرنا چاہتے تھے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم کی اصل طاقت پہلے بیٹنگ کر کے ہدف کا دفاع کرنا ہے۔
پچ بظاہر ہموار دکھائی دے رہی ہے اور اس میں وہ دراڑیں موجود نہیں جو کوالیفائر مرحلے کے دوران نظر آتی تھیں۔ گیند بازوں کو وکٹ سے زیادہ مدد ملنے کا امکان کم ہے، لہذا لائن اور لینتھ پر کنٹرول ہی اس میچ کا فیصلہ کن عنصر ثابت ہوگا۔
یہ فائنل دو مختلف کہانیوں کا ٹکراؤ ہے۔ پشاور زلمی اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کے لیے میدان میں ہے، جبکہ حیدرآباد کنگز مین اپنے پہلے سیزن کو ایک یادگار ٹائٹل کے ساتھ ختم کرنے کے درپے ہیں۔
دونوں ٹیمیں اب میدان میں اتر چکی ہیں۔ ٹاس کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور حکمت عملی طے ہو چکی ہے۔ اگلے چار گھنٹے فیصلہ کریں گے کہ ٹرافی کس کے ہاتھ میں ہوگی۔
