فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) نے کراچی کی طویل عرصے سے تاخیر کا شکار بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے پر یونیورسٹی روڈ کے حصے میں دوبارہ تعمیراتی کام شروع کر دیا ہے۔ کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کے مطابق کام اتوار، 26 اپریل 2026 سے بحال کیا گیا، جسے سندھ حکومت کی جانب سے منصوبے کی رفتار تیز کرنے کی نئی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
میئر کے مطابق وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مکسڈ ٹریفک کاریڈور اور نالے سے متعلق کام 90 روز میں مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیرِ اعلیٰ نے خود موقع کا دورہ کر کے کام کی بحالی اور پیش رفت کا جائزہ لیا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل سندھ حکومت نے منصوبے کے موسمیات تا نمائش سیکشن کا کنٹریکٹ سست روی کے باعث منسوخ کر دیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ اس حصے کا کام ہنگامی بنیادوں پر دوبارہ الاٹ کیا جائے گا۔ اس فیصلے نے واضح کر دیا تھا کہ حکومت منصوبے میں مسلسل تاخیر پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد اب زیادہ سخت مؤقف اختیار کر رہی ہے۔
بی آر ٹی ریڈ لائن کراچی کے بڑے ٹرانسپورٹ منصوبوں میں شمار ہوتی ہے۔ سرکاری منصوبہ بندی کے مطابق یہ تقریباً 27 کلومیٹر طویل کاریڈور ہے جو ملیر ہالٹ سے نمائش تک یونیورسٹی روڈ کے ذریعے جائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد شہر کے مشرقی اور وسطی حصوں کے درمیان سفر کو بہتر بنانا اور روزانہ بڑی تعداد میں مسافروں کو بہتر پبلک ٹرانسپورٹ فراہم کرنا ہے۔
تاہم شہریوں کے لیے اس منصوبے کا دوسرا رخ بھی کم اہم نہیں۔ یونیورسٹی روڈ پر جاری تعمیراتی کام عرصے سے ٹریفک جام، ٹوٹی سڑکوں، متبادل راستوں اور روزمرہ آمدورفت میں شدید مشکلات کا باعث بنتا رہا ہے۔ اسی لیے کام کی بحالی کو ایک طرف پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، تو دوسری طرف شہری یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ آیا اس بار واقعی مقررہ مدت میں نمایاں کام مکمل ہو سکے گا یا نہیں۔
اصل امتحان اب یہی ہے۔ ریڈ لائن منصوبہ پہلے ہی کئی ڈیڈ لائنز، انتظامی مسائل اور ٹھیکیداری پیچیدگیوں کا شکار رہ چکا ہے۔ اس لیے ایف ڈبلیو او کی واپسی حکومت کے لیے وقتی طور پر ایک مثبت اشارہ ضرور ہے، مگر فیصلہ کن بات یہ ہوگی کہ آنے والے 90 دنوں میں زمین پر کتنی حقیقی پیش رفت دکھائی دیتی ہے۔
