MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
کاروبار اور تجارت

برسلز آفس سے وابستہ ریئٹ کے دیوالیہ پن کی درخواست نے کوریائی ریئٹس کو بلند شرحِ سود کے خطرات سے دوچار کر دیا

Last updated: اپریل 28, 2026 10:41 شام
Yamna Shahid
Share
برسلز آفس سے وابستہ ریئٹ کے دیوالیہ پن کی درخواست نے کوریائی ریئٹس کو بلند شرحِ سود کے خطرات سے دوچار کر دیا
برسلز آفس سے وابستہ ریئٹ کے دیوالیہ پن کی درخواست نے کوریائی ریئٹس کو بلند شرحِ سود کے خطرات سے دوچار کر دیا
SHARE

جنوبی کوریا کی فہرست شدہ ریئل اسٹیٹ سرمایہ کاری کمپنی JR Global REIT کی جانب سے دیوالیہ پن سے تحفظ کی درخواست نے کوریائی REIT مارکیٹ کے ایک سنگین مسئلے کو نمایاں کر دیا ہے: بلند شرحِ سود، قرض کی دوبارہ فنانسنگ کا دباؤ، غیرملکی کرنسی ہیجنگ کی بڑھتی لاگت، اور بیرونِ ملک دفتری عمارتوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار۔

بظاہر یہ ایک کمپنی کا بحران معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے اثرات کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ JR Global REIT کا بنیادی اثاثہ برسلز کی معروف Finance Tower عمارت ہے، جسے کبھی نسبتاً محفوظ اور مستحکم آمدنی دینے والی پراپرٹی سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب اسی اثاثے کے گرد پیدا ہونے والے مالی دباؤ نے پورے کاروباری ماڈل پر سوال کھڑا کر دیا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں کوریائی سرمایہ کاروں نے یورپ اور امریکا کی کمرشل رئیل اسٹیٹ، خاص طور پر دفتری عمارتوں، میں بھرپور دلچسپی لی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ REITs کو ایسے سرمایہ کاری ذریعہ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا جو نسبتاً مستحکم منافع، باقاعدہ آمدنی اور بڑے بین الاقوامی اثاثوں تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ کم شرحِ سود کے دور میں یہ ماڈل کافی حد تک کامیاب بھی رہا۔ قرض سستا تھا، فنانسنگ آسان تھی، اور بیرونِ ملک جائیدادوں کو پورٹ فولیو میں تنوع کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

شرحِ سود میں اضافے نے اس پورے نظام کی کمزوریاں نمایاں کر دی ہیں۔ REITs کی ایک بنیادی کمزوری یہ ہے کہ ان میں سے بہت سی کمپنیاں قرض پر انحصار کرتی ہیں۔ جب فنڈنگ مہنگی ہو جائے تو صرف منافع متاثر نہیں ہوتا بلکہ پورا کیش فلو دباؤ میں آ جاتا ہے۔ اگر اسی دوران قرض کی میعاد بھی قریب ہو، اثاثے کی قدر گر رہی ہو، یا قرض دینے والے ادارے مزید سخت شرائط عائد کر دیں، تو مسئلہ تیزی سے بحران کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

JR Global REIT کا معاملہ بھی اسی تصویر کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ ایک ایسی عمارت جو بظاہر مضبوط اور مستحکم اثاثہ سمجھی جاتی تھی، اب مالی دباؤ کی علامت بن گئی ہے۔ اس سے سرمایہ کاروں کو یہ احساس ہوا ہے کہ مسئلہ صرف کمزور عمارتوں یا خالی دفاتر تک محدود نہیں، بلکہ اصل خطرہ اس مالیاتی ڈھانچے میں ہے جس پر یہ سرمایہ کاری کھڑی کی گئی تھی۔

کوریائی REITs، خاص طور پر وہ جو بیرونِ ملک دفتری عمارتوں میں زیادہ سرمایہ کاری رکھتے ہیں، ایک ساتھ کئی قسم کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ پہلی مشکل بلند شرحِ سود ہے۔ دوسری، قرض کی دوبارہ فنانسنگ۔ تیسری، اثاثوں کی قیمت میں کمی کا خدشہ۔ اور چوتھی، غیرملکی کرنسی ہیجنگ کے اخراجات۔ جب جنوبی کوریائی وون کمزور ہوتا ہے تو یورو یا ڈالر میں کی گئی سرمایہ کاری سے منسلک ہیج بعض اوقات اتنے مہنگے ہو جاتے ہیں کہ وہ منافع کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔

اسی تناظر میں KB Star REIT جیسے کیسز بھی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ ایسے معاملات سے یہ واضح ہوا ہے کہ بیرونِ ملک دفتری اثاثہ اگر بظاہر مستحکم بھی ہو، تب بھی FX hedge settlement اور قلیل مدتی قرض کا دباؤ سرمایہ کاروں کے لیے بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ یعنی خطرہ صرف کرایے یا آکوپینسی کی شرح میں نہیں، بلکہ اس مالیاتی ساخت میں بھی ہے جو ان اثاثوں کے نیچے موجود ہوتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بہت سے REITs ایک ایسے دور کے لیے بنائے گئے تھے جب سرمایہ سستا تھا۔ اس وقت سرمایہ کار منافع کی شرح دیکھتے تھے، مقام دیکھتے تھے، اور یہ سمجھتے تھے کہ بڑی بین الاقوامی دفتری عمارت خود بخود ایک محفوظ اثاثہ ہے۔ مگر بلند شرحِ سود کے ماحول میں سوالات بدل گئے ہیں۔ اب سرمایہ کار یہ جاننا چاہتے ہیں کہ قرض کب mature ہوگا، hedge کی لاگت کیا ہے، دستیاب نقدی کتنی ہے، اور اگر valuation مزید نیچے جائے تو کمپنی کے پاس کتنی گنجائش بچے گی۔

لسٹڈ REITs بڑی حد تک سرمایہ کاروں کے اعتماد پر چلتے ہیں۔ جب سرمایہ کاروں کو لگنے لگے کہ asset quality سے زیادہ financing risk اہم ہو گیا ہے، تو شیئر قیمت دباؤ میں آتی ہے، نیا سرمایہ اٹھانا مشکل ہو جاتا ہے، اور انتظامیہ پر سوالات بڑھنے لگتے ہیں۔ JR Global REIT کے گرد پیدا ہونے والی بے چینی اسی بڑے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ہر کوریائی REIT شدید خطرے میں ہے۔ مارکیٹ متنوع ہے، اور کچھ اداروں کے پاس بہتر اثاثے، کم leverage، یا زیادہ محتاط hedge structures موجود ہیں۔ لیکن JR Global REIT کا معاملہ ایک واضح تنبیہ ضرور ہے۔ اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بیرونِ ملک دفتری اثاثوں کو اب محض diversification story کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

اب سوال صرف یہ نہیں رہا کہ کسی REIT کے پاس کون سی عمارت ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ عمارت کس طرح financed ہے، کس کرنسی میں خطرہ پوشیدہ ہے، قرض کی واپسی کب درپیش ہے، اور اگر حالات مزید خراب ہو جائیں تو کمپنی کے پاس سنبھلنے کی کتنی گنجائش باقی رہے گی۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article کراچی میں گیس کا بحران: شہریوں کا جان لیوا "پلاسٹک بیگز” کا استعمال
Next Article اپنا گھر پروگرام 2026: قرض کی حد، مارک اپ اور اہم تفصیلات اپنا گھر پروگرام 2026: قرض کی حد، مارک اپ اور اہم تفصیلات
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
جولائی کی تعطیلات سے قبل امریکہ میں شدید گرمی کی لہر، کروڑوں افراد متاثر
جولائی کی تعطیلات سے قبل امریکہ میں شدید گرمی کی لہر، کروڑوں افراد متاثر
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
جولائی 1, 2026
قطر میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات، کشیدگی کم کرنے کی کوشش
قطر میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات، کشیدگی کم کرنے کی کوشش
تازہ ترین سیاست
جولائی 1, 2026
انڈس کمشنر: دریائے چناب میں پانی کے اتار چڑھاؤ پر بھارت کی خاموشی برقرار
انڈس کمشنر: دریائے چناب میں پانی کے اتار چڑھاؤ پر بھارت کی خاموشی برقرار
بریکنگ نیوز
جولائی 1, 2026
چمگادڑ کے منہ پر بیٹھنے سے 11 سالہ لڑکے کی ریبیز سے ہلاکت
چمگادڑ کے منہ پر بیٹھنے سے 11 سالہ لڑکے کی ریبیز سے ہلاکت
Health تازہ ترین
جولائی 1, 2026
سعودی عرب میں سیکیورٹی تعاون بڑھانے کے لیے محسن نقوی کا دورہ
سعودی عرب میں سیکیورٹی تعاون بڑھانے کے لیے محسن نقوی کا دورہ
تازہ ترین سیاست
جولائی 1, 2026
آزاد کشمیر انتخابات: پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کا انتخابی اتحاد
آزاد کشمیر انتخابات: پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کا انتخابی اتحاد
تازہ ترین سیاست
جولائی 1, 2026

You Might Also Like

کویتی دینار مئی 2026 میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں 900 روپے کے قریب مستحکم رہا
کاروبار اور تجارت

کویتی دینار مئی 2026 میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں 900 روپے کے قریب مستحکم رہا

By Abdul Rahim
اسلام آباد: ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے کچھ ریلیف کی امید پیدا ہوئی ہے کیونکہ سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹیڈ (CPPA-G) کی درخواست پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اپریل تا جون 2025 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ پر بجلی نرخوں میں کمی کے امکان کا عندیہ دیا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق یہ کمی تقریباً 1.75 سے 1.80 روپے فی یونٹ کے درمیان ہو سکتی ہے، جبکہ مجموعی صارف ریلیف کا حجم لگ بھگ 53.393 ارب روپے بتایا جا رہا ہے۔ یہ معاملہ مالی سال 2024-25 کی چوتھی سہ ماہی یعنی Q4 سے متعلق ہے۔ اسی بنیاد پر ڈسکوز کی جانب سے نیپرا سے منفی Quarterly Tariff Adjustment (QTA) مانگی گئی، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس بار صارفین پر اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے ان کے بلوں میں کمی دی جا سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ ریلیف یکساں ٹیرف پالیسی کے تحت کے-الیکٹرک صارفین تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔ نیپرا میں سماعت کے دوران ریگولیٹر نے اشارہ دیا کہ بجلی نرخوں میں منفی ایڈجسٹمنٹ بنتی ہے، تاہم حتمی فیصلہ تمام جمع کرائے گئے اعدادوشمار اور متعلقہ کمپنیوں کے دعووں کی جانچ پڑتال کے بعد جاری کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ فی یونٹ کمی کے بارے میں 1.75 روپے اور 1.80 روپے، دونوں اعداد سامنے آئے ہیں؛ یعنی ریلیف کی سمت واضح ہے، مگر آخری نوٹیفکیشن ہی حتمی رقم طے کرے گا۔ بجلی کے بلوں میں کمی کا امکان، منفی سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سے تقریباً 1.75 روپے فی یونٹ ریلیف متوقع
کاروبار اور تجارت

بجلی کے بلوں میں کمی کا امکان، منفی سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سے تقریباً 1.75 روپے فی یونٹ ریلیف متوقع

By Yamna Shahid
کاروبار اور تجارت

آئی ایم ایف پاکستان کے سیلابی اخراجات اور بجٹ کا جائزہ لے گا

By Adnan Mughal
ایف آئی اے کی لاہور میں کارروائی، غیر قانونی کرنسی ایکسچینج اور کاپی رائٹ خلاف ورزی پر چار افراد گرفتار
کاروبار اور تجارت

ایف آئی اے کی لاہور میں کارروائی، غیر قانونی کرنسی ایکسچینج اور کاپی رائٹ خلاف ورزی پر چار افراد گرفتار

By Mabruka Khan
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?