عالمی بینک نے اپنی تازہ کموڈیٹی مارکیٹس آؤٹ لک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ 2026 کے دوران عالمی توانائی کی قیمتوں میں 24 فیصد اضافے کا امکان ہے، جس کے بعد یہ سطح روس کے 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد دیکھی گئی بلند ترین سطح تک پہنچ سکتی ہے۔ ادارے کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ ہے، جس نے تیل، قدرتی گیس اور کھاد سے متعلق رسد کو شدید متاثر کیا ہے۔
عالمی بینک کا کہنا ہے کہ معاملہ صرف توانائی تک محدود نہیں رہے گا۔ رپورٹ کے مطابق 2026 میں مجموعی اجناس کی قیمتوں میں بھی 16 فیصد اضافے کی توقع ہے، جس سے عالمی منڈیوں پر دباؤ مزید بڑھے گا۔ ادارے نے نشاندہی کی ہے کہ کئی اہم دھاتوں کی قیمتیں بھی ریکارڈ یا ریکارڈ کے قریب سطح پر رہنے کا امکان ہے، جس کا اثر خاص طور پر درآمدات پر انحصار کرنے والے ممالک پر زیادہ پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ میں ایک اور اہم خدشہ خوراک کے شعبے سے متعلق ظاہر کیا گیا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے باعث کھاد مہنگی اور کم قابلِ برداشت ہو رہی ہے، جس سے زرعی لاگت بڑھ سکتی ہے، پیداوار متاثر ہو سکتی ہے، اور بالآخر خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ ادارے کے چیف اکانومسٹ اندرمت گل کے مطابق یہ جھٹکا پہلے توانائی، پھر خوراک، اور اس کے بعد وسیع تر مہنگائی کی صورت میں عالمی معیشت پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
عالمی بینک کی بنیادی پیش گوئی یہ ہے کہ اگر تجارت اور جہاز رانی میں رکاوٹوں کی شدید ترین لہر نسبتاً جلد کم ہو جاتی ہے اور رسد اکتوبر تک جنگ سے پہلے والی سطح کے قریب واپس آ جاتی ہے، تب بھی قیمتیں پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ رہیں گی۔ ادارے نے اس صورتحال کو اجناس کی عالمی منڈی کے لیے ایک تاریخی دھچکا قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ تیل کی رسد میں یہ کمی ریکارڈ سطح کی ہے۔
ترقی پذیر ممالک کے لیے اس کے اثرات خاص طور پر سخت ہو سکتے ہیں۔ ایندھن اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ عام طور پر اندرونی مہنگائی کو تیز کرتا ہے، حکومتی مالی دباؤ بڑھاتا ہے، اور گھرانوں کی قوتِ خرید کو کمزور کرتا ہے۔ وہ ممالک جو پہلے ہی کمزور شرحِ نمو، قرضوں کے دباؤ یا درآمدی انحصار کا سامنا کر رہے ہیں، ان کے لیے یہ نئی لہر زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ حالیہ تجزیوں میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ اگر بلند قیمتوں کا یہ رجحان برقرار رہا تو غریب ممالک اس کا بڑا بوجھ اٹھائیں گے۔
یہ نئی پیش گوئی اس بات کو بھی واضح کرتی ہے کہ عالمی توانائی منڈیاں اب صرف وقتی اتار چڑھاؤ کا شکار نہیں بلکہ جغرافیائی سیاسی خطرات کے زیرِ اثر چل رہی ہیں۔ امریکی توانائی معلوماتی ادارے کے حالیہ تخمینے بھی ظاہر کرتے ہیں کہ 2026 میں برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت جنگ سے پہلے کی سطح سے خاصی بلند رہنے کی توقع ہے، جو عالمی بینک کی اس رائے کو مزید تقویت دیتا ہے کہ موجودہ بحران وقتی نہیں بلکہ گہرے اور طویل اثرات رکھتا ہے۔
مجموعی طور پر عالمی بینک کا پیغام خاصا سخت ہے: دنیا چار برس بعد توانائی کی قیمتوں کے ایک اور بڑے جھٹکے کا سامنا کر رہی ہے، اور اس کے اثرات صرف تیل اور گیس تک محدود نہیں رہیں گے۔ اگر جہاز رانی کے راستوں، کھاد کی رسد اور ایندھن کی برآمدات پر دباؤ برقرار رہا تو عالمی معیشت کو سست شرحِ نمو، ضدی مہنگائی اور بڑھتے ہوئے غذائی عدم تحفظ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
