پاکستانی روپے کی قدر میں بدھ، 29 اپریل 2026 کو انٹر بینک مارکیٹ میں مزید کمی دیکھی گئی، جہاں ڈالر 284.50 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ کاروبار کے آغاز کے پہلے گھنٹے میں ہی مقامی کرنسی 40 پیسے کی تنزلی کا شکار ہوئی، جس کی بنیادی وجہ زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ اور مرکزی بینک کے آئندہ مانیٹری پالیسی اجلاس کے حوالے سے پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال ہے۔
اوپن مارکیٹ میں صورتحال درآمد کنندگان اور بیرون ملک سفر کرنے والوں کے لیے مزید تشویشناک ہے۔ ایکسچینج کمپنیاں ڈالر 287.20 روپے میں فروخت کر رہی ہیں، جس سے سرکاری ریٹ اور اوپن مارکیٹ کے درمیان فرق تین روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے لیے یہ خلیج ایک بڑا چیلنج ہے، جو کمرشل بینکوں کی سخت نگرانی کے باوجود سٹہ بازی کو روکنے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کار آج کی اس بے یقینی کے پیچھے دو اہم عوامل بتاتے ہیں۔ پہلا، اگلے ہفتے ہونے والا مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کا اجلاس ہے۔ تاجر اس بات پر تذبذب کا شکار ہیں کہ کیا مرکزی بینک صنعتی نمو کے لیے شرح سود میں کمی کرے گا یا مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے اسے برقرار رکھے گا۔ اگر شرح سود میں کمی کی گئی تو روپے پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے، جبکہ شرح برقرار رکھنے کی صورت میں پہلے سے دباؤ کا شکار کاروباری طبقے کے لیے قرض لینا مزید مہنگا ہو جائے گا۔
کراچی میں ایک بڑے بروکریج ہاؤس کے سینئر کرنسی ڈیلر نے بتایا، "مارکیٹ فی الحال ایک غیر یقینی کیفیت میں ہے۔ برآمد کنندگان بہتر ریٹ کے انتظار میں اپنی رقوم مارکیٹ میں لانے سے گریزاں ہیں، جبکہ کارپوریٹ سیکٹر کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی کے لیے ڈالر کی مانگ مسلسل جاری ہے۔ یہ طلب اور رسد کا وہ توازن ہے جو بیرونی امداد کی آمد تک درست ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔”
ڈالر کے علاوہ یورو اور برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یورو 306.10 روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ 358.45 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ عام آدمی کے لیے اس کا مطلب ایندھن، ادویات اور خام مال کی درآمدی قیمتوں میں اضافہ ہے، جو پہلے سے ہی دوہرے ہندسے کی افراطِ زر کا شکار عوام کے لیے مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔
حکومت کا موقف ہے کہ یہ اتار چڑھاؤ عارضی ہے اور اسے نئی دوطرفہ قرضوں کی ڈیلز سے امیدیں وابستہ ہیں۔ تاہم، جب تک یہ رقوم مرکزی بینک کے کھاتوں میں منتقل نہیں ہوتیں، روپیہ انٹر بینک کی ہر ہلچل کے سامنے غیر محفوظ رہے گا۔ فی الحال، تاجروں کا اندازہ ہے کہ روپیہ آج کے کاروباری سیشن کے دوران 284 سے 286 کی سطح کے درمیان ہی رہے گا، جبکہ سرمایہ کاروں کی نظریں اسٹیٹ بینک کی مداخلت پر مرکوز ہیں۔
