کراچی: 29 اپریل 2026 کو سعودی ریال کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں بڑا اتار چڑھاؤ سامنے نہیں آیا، اور انٹربینک یا ریفرنس مارکیٹ میں ایک سعودی ریال تقریباً 74.37 روپے پر دیکھا گیا، جبکہ اوپن مارکیٹ میں اس کی فروخت 75.40 روپے تک رپورٹ ہوئی۔ بزنس ریکارڈر نے اسی تاریخ کے لیے SAR سے PKR ریٹ 74.37 دکھایا، جبکہ دیگر ہسٹری ٹریکرز کے مطابق دن کے اختتام تک ریال 74.32 سے 74.33 روپے کی حد میں بھی رہا۔
اوپن مارکیٹ میں ریال کی قیمت نسبتاً بلند رہی۔ حماری ویب کے مطابق 29 اپریل 2026 کو پاکستان میں سعودی ریال کی اوپن مارکیٹ شرح 75.40 روپے کے قریب تھی، جو عام طور پر انٹربینک ریٹ سے کچھ اوپر رہتی ہے۔ یہی فرق ان پاکستانیوں کے لیے زیادہ اہم بنتا ہے جو عمرہ، سفر یا سعودی عرب سے متعلق ادائیگیوں کے لیے ریال خریدتے ہیں۔
اعداد و شمار سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مارکیٹ میں ریال نسبتاً مستحکم رہا، مگر صارفین کو پھر بھی بینکنگ ریفرنس ریٹ اور اوپن مارکیٹ ریٹ کے درمیان فرق برداشت کرنا پڑا۔ سادہ حساب سے دیکھا جائے تو 1,000 سعودی ریال کی مالیت انٹربینک سطح پر تقریباً 74,370 روپے بنتی ہے، جبکہ اوپن مارکیٹ فروخت کے حساب سے یہی رقم 75,400 روپے تک جا سکتی ہے۔ یہ فرق خاص طور پر بڑی رقم کے تبادلے میں نمایاں ہو جاتا ہے۔ یہ نتیجہ شائع شدہ فی ریال نرخوں کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ہے۔
اس دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مارک ٹو مارکیٹ ری ویلیوایشن ریٹس کی روزانہ اپ ڈیٹ بھی 29 اپریل 2026 کے تناظر میں دستیاب تھی، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ سرکاری حوالہ جاتی فریم ورک اسی عرصے میں فعال تھا۔ اگرچہ یہ صفحہ عام صارف کے لیے کیش خرید و فروخت کا ریٹ نہیں دیتا، لیکن ملکی فارن ایکسچینج مارکیٹ میں اسے اہم ریفرنس سمجھا جاتا ہے۔
سال 2026 کے وسیع تر رجحان کو دیکھا جائے تو سعودی ریال کی قدر پاکستانی روپے کے مقابلے میں بہت زیادہ اوپر نیچے نہیں گئی۔ ایکسچینج ریٹس کی ہسٹری کے مطابق 2026 میں ریال کی اوسط شرح 74.66 روپے کے قریب رہی، جبکہ اسی عرصے میں کم ترین سطح 74.156 روپے اور بلند ترین سطح 75.422 روپے تک ریکارڈ کی گئی۔ اس پس منظر میں 29 اپریل کا ریٹ نسبتاً نچلی مگر مستحکم سطح پر شمار کیا جا سکتا ہے۔
مارکیٹ ماہرین عموماً کہتے ہیں کہ سعودی ریال کی مقامی طلب پاکستان میں صرف سفری ضروریات تک محدود نہیں رہتی۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات، حج و عمرہ سیزن، اور اوپن مارکیٹ میں طلب و رسد کی کیفیت اس ریٹ کو متاثر کرتی ہے۔ اسی وجہ سے معمولی فرق بھی صارفین اور منی ایکسچینج مارکیٹ دونوں کے لیے اہم ہو جاتا ہے۔ حماری ویب نے بھی واضح کیا کہ اوپن مارکیٹ ریٹ اکثر انٹربینک سے قدرے بلند رہتا ہے۔
