راولپنڈی: پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما جمعرات کو اڈیالہ جیل پہنچے، جہاں دو مسلسل ہفتوں تک نامزد پارٹی نمائندوں کے نہ پہنچنے پر نہ صرف پارٹی کے اندر سوالات اٹھے تھے بلکہ عمران خان تک رسائی کے معاملے پر قیادت بھی دباؤ میں آ گئی تھی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقاتوں کے حق پر طویل عرصے سے تنازع جاری ہے، حالانکہ عدالت کی جانب سے ہفتے میں دو بار ملاقات کی اجازت دی جا چکی ہے۔
گزشتہ دو ہفتے پی ٹی آئی کے لیے خاصے مشکل رہے۔ 16 اپریل کو جیل حکام کو ایک فہرست دی گئی تھی جس میں بیرسٹر گوہر علی خان، لطیف کھوسہ، بابر اعوان، حامد خان، انتظار پنجوتھہ اور سلمان اکرم راجا جیسے اہم رہنماؤں کے نام شامل تھے، مگر ان میں سے کوئی بھی ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل نہ پہنچ سکا۔ اس کے بعد 23 اپریل کو ایک اور چھ رکنی فہرست جمع کرائی گئی، لیکن اس روز بھی کوئی نامزد رہنما شام 4 بجے کی مقررہ ڈیڈ لائن سے پہلے جیل نہ پہنچا۔
یہ مسلسل دوسرا موقع تھا، اس لیے معاملہ محض انتظامی کوتاہی نہیں رہا بلکہ سیاسی طور پر بھی شرمندگی کا باعث بن گیا۔ پارٹی کے اندر اور باہر دونوں جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ اگر عمران خان سے ملاقاتیں اتنی اہم ہیں تو پھر سینئر قیادت خود کیوں نہیں پہنچ رہی۔ دوسری طرف عمران خان کی بہنیں منگل کے روز مسلسل جیل پہنچتی رہیں، چاہے انہیں ملاقات کی اجازت ملی یا نہیں۔
ان حالات کے بعد پی ٹی آئی قیادت نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیا۔ پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس پیش رفت کو “افسوسناک” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ جو رہنما اڈیالہ جیل آنے کی پوزیشن میں نہیں، انہیں ملاقات کے لیے اپنے نام نہیں بھجوانے چاہییں۔ ان کے بیان سے اندازہ ہوا کہ پارٹی کے اندر اس معاملے پر ناراضی موجود ہے اور قیادت اسے محض معمول کی غلطی کے طور پر نہیں دیکھ رہی۔
اصل تنازع تاہم صرف یہی نہیں کہ کون جیل پہنچا اور کون نہیں۔ بڑی بات یہ ہے کہ عمران خان تک رسائی کا مسئلہ کئی ماہ سے چل رہا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے منگل اور جمعرات کو ملاقاتوں کی اجازت دی تھی، مگر عملی طور پر اس حکم پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے متعدد بار مؤقف اختیار کیا کہ نام پہلے سے بھجوانے کے باوجود انہیں جیل کے باہر روک دیا گیا یا آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اسی لیے جمعرات کو پی ٹی آئی رہنماؤں کا اڈیالہ جیل پہنچنا صرف ایک معمول کی ملاقات نہیں تھا۔ یہ ایک سیاسی پیغام بھی تھا کہ پارٹی قیادت دو ہفتوں کی غیر حاضری کے بعد پیدا ہونے والے تاثر کو زائل کرنا چاہتی ہے۔ بظاہر یہ کوشش تھی کہ یہ دکھایا جائے کہ پارٹی اب بھی اپنے بانی کے ساتھ کھڑی ہے اور قیادت پر لگنے والی تنقید کا جواب عمل سے دیا جا رہا ہے۔
تاہم یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آیا یہ واپسی اندرونی نظم و ضبط کی علامت ہے یا محض وقتی ردِعمل۔ حالیہ ہفتوں کی صورتِ حال سے یہی لگتا ہے کہ پی ٹی آئی ایک طرف داخلی کمزوریوں سے نمٹ رہی ہے، تو دوسری طرف ریاستی سطح پر عائد رکاوٹوں کے سبب بھی مشکلات کا شکار ہے۔
عمران خان کے حامیوں کے لیے بنیادی شکایت اب بھی وہی ہے: عدالتی حکم موجود ہے، مگر ملاقاتوں کا عمل اب بھی غیر یقینی ہے۔ اور پی ٹی آئی کے لیے ہر چھوٹا سا تعطل بھی اب ایک سیاسی مسئلہ بن چکا ہے، کیونکہ یہ صرف شیڈول کی خرابی نہیں لگتی، بلکہ طاقت، رسائی اور پارٹی نظم و ضبط کا امتحان بن گئی ہے۔
