دنیا بھر میں صحافیوں کے لیے ماحول تیزی سے سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ آمرانہ حکومتیں اور جدید ڈیجیٹل نگرانی کے ہتھکنڈے مل کر آزاد صحافت کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا واچ ڈاگس نے خبردار کیا ہے کہ اظہارِ رائے کی بنیادی آزادی اب پہلے سے کہیں زیادہ خطرے میں ہے۔ یہ تشویش حال ہی میں صحافیوں کو ہراساں کرنے، قانونی شکنجے کسنے اور جسمانی تشدد کے واقعات میں اضافے کے بعد سامنے آئی ہے۔ جنگی علاقوں میں نامہ نگاروں کی گرفتاری ہو یا مقامی تحقیقاتی اداروں کو خاموش کرانے کے لیے "ریاست مخالف” قوانین کا استعمال، جبر کے طریقے اب زیادہ جدید ہو چکے ہیں۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "ہم ان حفاظتی دیواروں کو گرتے دیکھ رہے ہیں جو آزادانہ سوچ کی ضمانت دیتی تھیں۔ حکومتیں اب صرف مواد سنسر نہیں کر رہیں، بلکہ وہ صحافت کے بنیادی ڈھانچے کو ہی ختم کر رہی ہیں۔” حقائق اس صورتحال کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، دنیا کے دو تہائی ممالک میں میڈیا کا ماحول ‘خراب’ یا ‘مسئلہ ساز’ قرار دیا گیا ہے۔ قومی سلامتی کے نام پر استعمال ہونے والا ڈیجیٹل جاسوسی سافٹ ویئر اب سنسرشپ کا سب سے بڑا ہتھیار بن چکا ہے۔ حکومتی ادارے اب ذرائع کا سراغ لگانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں، جس سے تحقیقاتی صحافت کا اہم ترین اصول یعنی ‘سورس کی رازداری’ خطرے میں پڑ گئی ہے۔ اس جبر کے اثرات صرف نیوز روم تک محدود نہیں ہیں۔ جب صحافیوں کو خاموش کیا جاتا ہے، تو عوام کے پاس اقتدار کا احتساب کرنے کا واحد ذریعہ ختم ہو جاتا ہے۔ جن خطوں میں میڈیا کی آزادی سلب ہوئی ہے، وہاں کرپشن کے گراف میں اضافہ اور پالیسیوں میں غیر شفافیت واضح دکھائی دیتی ہے۔ یہ زوال صرف آمرانہ ریاستوں تک محدود نہیں ہے۔ مستحکم جمہوریتوں میں بھی سیاسی رہنماؤں کی جانب سے صحافیوں کو "ریاست کا دشمن” قرار دینے کے بیانیے نے انتہا پسند عناصر کو شہ دی ہے۔ اس رویے نے آن لائن ہراسانی کی مہمات کو فروغ دیا ہے، جس کا نشانہ بالخصوص خواتین صحافی اور اقلیتوں کے حقوق پر کام کرنے والے رپورٹرز بن رہے ہیں۔ میڈیا تنظیمیں اب عالمی سطح پر مربوط ردعمل کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ جی-20 ممالک تجارتی اور سفارتی تعلقات کو پریس کی آزادی کے تحفظ سے مشروط کریں۔ ٹھوس پالیسی تبدیلیوں کے بغیر، عوام تک تصدیق شدہ اور آزاد معلومات کی رسائی کا عمل مسلسل کمزور پڑتا جائے گا۔ اس رجحان کو بدلنے کا وقت ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے، اور فرنٹ لائن پر موجود بہت سے صحافیوں کے لیے اگلی سرخی ان کی اپنی زندگی کا آخری پیغام ثابت ہو سکتی ہے۔
